ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 631
نیٹرم فاس دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔631 حیض کے دوران پیٹھ اور کمر میں درد ہوتو نیٹرم فاس اچھی دوا سمجھی جاتی ہے لیکن میرا تجربہ ہے کہ اس کے ساتھ کالی فاس اور میگ فاس ملا کر دی جائے تو زیادہ اچھا اثر ہوتا ہے۔پیٹھ میں کھچاؤ، درد اور پسینہ کی علامت نمایاں ہو تو نیٹرم فاس اچھی دوا ہے۔دل کی بیماری میں اگر گردن کے دونوں طرف درد ہو تو اس میں نیٹرم فاس بھی دوا ہو سکتی ہے۔حیض کے ایام میں خصوصاً دن کے وقت ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں۔لکھتے ہوئے ہاتھ میں اینٹھن ہوتی ہے۔ہاتھ پاؤں میں چیونٹیاں رینگنے کا احساس بھی نمایاں ہوتا ہے۔اعضاء کا بھاری پن اور سن ہو جانا بھی نیٹرم فاس کی علامت ہے۔جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔عضلات میں خصوصاً پنڈلیوں میں تشیخ اور کمزوری کا احساس جوڑوں میں کڑکڑانے کی آوازیں، جوڑوں کا درد بالعموم دائیں کندھے سے شروع ہوتا ہے اور بعض اوقات یہاں تک ہی محدود رہتا ہے۔سارے جسم میں رگڑ لگنے سے پیدا ہونے والے درد کا سا احساس۔چلتے چلتے اچانک کوئی ٹانگ جواب دے دیتی ہے لیکن یہ کیفیت وقتی ہوتی ہے۔جلد پر خشک ، جلن والے دانے بن جاتے ہیں اور زردسنہری کھر نڈا بھر آتے ہیں۔جسم پر سرخ یا زرد رنگ کے داغ نمایاں ہو جاتے ہیں۔فیرم فاس میں بھی سرخ دانے نکلنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔نیٹرم فاس میں جلد زردی مائل ہو جاتی ہے۔ماؤف حصہ میں اور جلد میں ورم ہوتی ہے۔چیونٹیاں رینگنے کا احساس ہوتا ہے۔مہا سے بھی نکلتے ہیں۔نیٹرم فاس کے مریض کو گو زیادہ نیند آتی ہے مگر بہت گہری نیند نہیں آتی۔پریشان کن خواب دیکھتا ہے۔کرسی پر بیٹھے بیٹھے سو جاتا ہے۔کھانے کے بعد نیند کا بہت غلبہ ہوتا ہے۔طاقت 6x اور 30 سے 200 تک