ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 628

نیٹرم فاس 628 نیٹرم فاس کی ایک علامت یہ ہے کہ مریض کھلی ہوا کو پسند نہیں کرتا۔اس کے مزاج میں سلفر کے مریض کی طرح نہانے سے نفرت پائی جاتی ہے اور مستقل نزلے کا رجحان ملتا ہے۔بھوک نا قابل برداشت ہوتی ہے جسے زیادہ کھانے سے آرام آتا ہے۔مریض چکنائی، مرغن غذا ئیں، سرکہ، پھل اور دودھ وغیرہ پسند نہیں کرتا۔چکنائی سے نفرت کی علامت پلسٹیلا سے مشابہ ہے۔جب لمبے عرصہ کی بیماریوں کے نتیجہ میں جسم کے لعاب خشک ہو گئے ہوں اور رطوبتوں میں کمی آگئی ہو تو انہیں بحال کرنے میں نیٹرم فاس بھی اچھا کام دکھاتی ہے مگر چائنا بہر حال نمایاں فوقیت رکھتی ہے۔بعض اوقات جسم کا کوئی حصہ سن ہو جاتا ہے۔ہاتھ ، انگلی یا کان کا ایک حصہ سو جائے تو اس میں نیٹرم فاس اچھی دوا ہے۔اسی طرح جسم کے کسی خاص حصہ کی طرف خون کا دباؤ بڑھ جائے تو اس میں بھی نیٹرم فاس مفید ہے۔رات کو جاگتے ہوئے اچانک جھٹکے لگنے لگیں اور خون کی شریانوں میں تیز چلتے ہوئے درد کا احساس ہوتو یہ بھی نیٹرم فاس کی علامات میں سے ایک ہے۔مگر ان سب تکلیفوں میں نیٹرم فاس اسی وقت کام کرے گی جب یہ مزاجی دوا ہو۔ورنہ یہ بیماریاں تو بہت سی دواؤں میں ملتی ہیں مگر ہر دوا بالمثل ثابت نہیں ہوتی۔بعض دفعہ لیٹے لیٹے جسم پر اچانک زلزلہ سا آ جاتا ہے۔اس کے جھٹکے زلزلہ کی طرح اچانک اور سخت ہوتے ہیں۔عضلاتی ریشوں کی کمزوریوں میں اور اعصابی تناؤ خصوصا آنکھ کے اعصابی تناؤ میں نیٹرم فاس بہت مؤثر دوا ہے۔اسی طرح یہ پٹھوں کے پھڑکنے کے لئے بھی اچھی ہے۔چونکہ نیٹرم فاس کے مریض کے معدہ میں تیزابیت پائی جاتی ہے۔اس لئے اس کے پسینہ اور بدن کی بو میں بھی کھٹاس پیدا ہو جاتی ہے حتی کہ دوسرے لوگوں کو بھی یہ کھٹی ہومحسوس ہوتی ہے۔بعض دفعہ بری خبر سننے سے مریض گم سم ہو جاتا ہے۔اس میں دوسری معروف دواؤں کے علاوہ نیٹرم فاس سے فوراً فائدہ ہوتا ہے اور آئندہ خطرات سے نجات مل جاتی ہے۔