ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 595

مرکزی 595 مرک کا ر زیادہ بہتر دوا ہے۔ان دونوں کی علامتوں میں نمایاں فرق یہ ہے کہ مرکسال نسبتا نرم لیکن مزمن دوا ہے۔مرک کار کی بیماریوں میں شدت پائی جاتی ہے اور یہ مقابلتا زیادہ تیزی سے اثر کرتی ہے۔حاد اور مزمن دونوں بیماریوں میں اس کا تیز اثر کرنا ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔لمبی چلنے والی پچپش جس میں آؤں اور خون آرہا ہو ، مرکسال دیں۔مگر مرک کاراس وقت فائدہ دیتی ہے جب پیچش کا فوری نوعیت کا حملہ ہو اور اجابت کے باوجود در دختم ہونے میں نہ آئے اور خون کا اخراج مسلسل ہونے لگے۔مرکزی کا مزاج بدلتا رہتا ہے۔بیماریوں کی شدت میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔بلڈ پریشر کبھی زیادہ ہو جاتا ہے اور کبھی کم۔ایسا بخار جواچانک زیادہ ہو جائے اور اچانک کم ہو جائے یعنی کسی ایک جگہ قرار نہ پکڑے تو اس کے لئے مرکسال بھی ایک امکانی دوا ہے جس کا جائزہ لینا چاہئے۔مرکزی میں گینگرین کی علامت ہونٹوں ، گالوں اور مسوڑھوں پر ظاہر ہوتی ہے۔جلد سیاہ ہو کر بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہے۔آتشک میں بھی انہی جگہوں پر بیماری کی علامتیں بھیا نک رنگ میں ظاہر ہوتی ہے۔ناک بھی متاثر ہوتا ہے اور اس کی ہڈیاں اندر سے کھائی جاتی ہیں۔منہ کے ناسور بھی مرکزی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔جب مرکزی کی علامات بڑھ جاتی ہیں تو عمومی نقاہت سے ہاتھ کا پنپنے لگتے ہیں اور کچھ اٹھانے کی طاقت نہیں رہتی۔چائے کی پیالی اٹھانی بھی مشکل ہو جاتی ہے۔مرگی سے ملتی جلتی بچوں کی بیماریوں اور اعضاء کی بے اختیار حرکت میں جو بلا ارادہ شروع ہو جائے ، مرکزی ایک امکانی دوا ہے۔مرکزی کے مریض کی طبیعت میں جلد بازی پائی جاتی ہے اور گفتگو میں تیزی آ جاتی ہے۔صبر کا فقدان ہوتا ہے اور وہ ہر کام بہت جلد کرنا چاہتا ہے۔اس کا غصہ بھی آسمان سے باتیں کرتا ہے۔اگر پاگل پن کا رجحان ہو تو بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ ایسے مریض کسی جذبے سے مغلوب ہو کر فوراً کوئی انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں یا خود کشی کر لیتے ہیں۔بے حد پریشان اور بے چین رہتے ہیں۔پاگل ہونے یا مرنے کے وہم میں مبتلا