ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 495

کالی کارب 495 124 کالی کارب KALI CARBONICUM کالی کاربونیٹ پوٹیشیم اور کاربن کا ایک سفید رنگ کا مرکب ہے جو پہلے وقتوں میں لکڑی، پتوں اور سمندری پودوں کی راکھ سے نکالا جاتا تھا۔پٹیشیم کلورائیڈ کے بعد یہ دوسرا اہم مرکب تھا جو تجارتی مقاصد کے لئے تیار کیا جاتا تھا۔بعد ازاں یہ پودوں کی راکھ سے بنانے کی بجائے معدنی ذخائر سے نکالا جانے لگا۔اس کا سب سے بڑا ماخذ جرمنی کی نمک کی کانیں تھیں۔آج کل پوٹیشیم صنعتی پیمانے پر کئی طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے۔جلدی امراض ایگزیما اور خارش میں اسے ایک محلول کی صورت میں استعمال کیا گیا ہے۔ہومیو پیتھی میں پوٹیشیم کاربونیٹ کے سفوف کی بہت ہلکے محلول کی صورت میں پوٹینسی بنا کر استعمال کی جاتی ہے۔اس دوا کا گہرائی میں سمجھنا بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں کئی تضادات پائے جاتے ہیں۔گرمی اور سردی دونوں کے لئے مریض زود حس ہوتا ہے۔اس کا مزاج بہت الجھا ہوا ہوتا ہے۔اگر دوا کی تشخیص صحیح بھی ہو لیکن مریض کا مزاج اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو تو فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔عموماً اگر دوا غلط ہو تو نقصان پہنچاتی ہے لیکن کالی کا رب وہ دوا ہے جو صیح بھی ہو تو نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔جیسے سلیشیا اگر صحیح بھی ہو لیکن زیادہ اونچی طاقت میں دے دی جائے تو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔Gout یعنی نقرس میں انگلیوں اور ہاتھوں کے جوڑوں میں گانٹھیں بن جاتی ہیں اور ہاتھوں کی شکل بگڑ جاتی ہے۔انگلیاں ٹیڑھی ہونے لگتی ہیں۔ایسی صورت میں کالی کا رب کو اونچی طاقت میں دینا، جبکہ وہ مریض کے مزاج کے عین مطابق بھی ہو، بہت خطرناک ہے اور مریض کو سخت تکلیف میں مبتلا کر کے جان سے مارنے کے مترادف ہے۔اگر