ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 489 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 489

کالی بائیکروم لگیں تب بھی یہ مؤثر ہے۔489 کالی بائیکروم میں کان ، ناک، جبڑوں اور ہونٹ وغیرہ یعنی تمام چہرے کی مشتر کہ علامات کانوں سے بھی چپکنے والا مواد نکلتا ہے۔کان میں بھی دھڑکن کا احساس ملتا ہے۔اگر یہ مزمن ہو جائے تو کان کے پردے میں سوراخ ہو جاتے ہیں۔قوت شامہ بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ناک میں مواد جم جائے تو دردبھی ہوتا ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔نمی سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔عام تیز کاٹنے والا مواد ناک سے بہتا ہے۔اگر نزلہ مزمن ہو جائے تو ناک کے نتھنوں کے درمیان والی ہڈی میں سوراخ ہو جاتے ہیں۔ایک عجیب علامت یہ بھی ہے کہ اگر اس ہڈی پر نزلہ کا مواد جم کر سخت ہو جائے تو اسے کھرچنے سے آنکھ کی بینائی پر اثر پڑتا ہے۔پیشانی اور آنکھوں میں درد ہوتا ہے۔ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔داڑھوں میں کھانسی کی وجہ سے درد ہوتا ہے۔سردرد اور نزلاتی تکلیفوں میں جس طرف بھی درد ہو اس طرف کی نچلی داڑھوں میں درد کا ایسا احساس ہوگا گویا کہ درد کی اصل جڑ یہی ہے۔یہ درد دراصل اعصابی ریشوں میں ہوتا ہے جو داڑھوں میں محسوس ہوتا ہے۔ہونٹوں کے ناسور اور زخموں کے لئے بھی کالی بائیکروم مفید دوا ہے۔سسٹس (Cistus) بھی ہونٹوں کے زخموں کے لئے مفید ہے خصوصاً نچلے ہونٹ کے السر میں فائدہ دیتی ہے۔ڈلک مارا دونوں ہونٹوں کے السر میں مفید ہے اور جلد کی بیماریوں میں بھی مفید ہے خصوصاً وہ بیماریاں جو تیزی سے پھیلتی ہیں۔Pyretic Glands کے لئے بھی مفید ہے۔کالی بائیکروم میں ناک سے خون نکلتا ہے۔ناک کی باریک جھلیوں میں گومڑ سے بن جاتے ہیں۔چہرے کی جلد اور اندرونی جھلیوں کے دق میں بھی بہت مفید دوا ہے اور ان دونوں بیماریوں میں خدا کے فضل سے شافی ثابت ہوئی ہے۔کالی بائیکروم میں زبان پر تہہ ہی جم جاتی ہے۔اگلے حصہ پر سفیدی اور پچھلے حصہ پر