ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 487
کالی بائیکروم 487 کینسر کی بیماریاں بیک وقت کسی ایک مریض میں شاذ ہی ہوسکتی ہیں یا وہ کینسر کا مریض ہوگا یا ناسوروں کا۔کالی بائیکروم کا مریض معدے کے ناسوروں کا مریض ہوتا ہے۔معدے کی تکلیفوں میں کالی بائیکروم کی علامتیں ملتی ہوں تو فوراً اسے شروع کروادینا چاہئے تا کہ بیماری سنگین صورت نہ اختیار کر سکے۔کالی بائیکر وم کے زخم بہت گہرے اور ان کے کنارے ابھرے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی ممتاز کرنے والی علامت نہیں، بعض اور دواؤں میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔کالی بائیکروم میں ایک علامت کا سٹیکم سے ملتی ہے یعنی بعض اوقات چلتے پھرتے یا اٹھتے بیٹھتے گھٹنوں سے آوازیں نکلتی ہیں جو تکلیف نہ بھی دیں تو ذہنی الجھن ضرور پیدا کرتی ہیں۔کاسٹیکم اس میں چوٹی کی دوا شمار کی جاتی ہے۔کالی بائیکروم بھی اس کی ہم پلہ دوا ہے۔مگر اس میں جلن کا احساس پایا جاتا ہے اور سردی بھی محسوس ہوتی ہے۔سردی اور جلن پوٹاشیم کے نمکیات میں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔کالی بائیکروم میں بیلاڈونا سے مشابہ ایک خصوصیت پائی جاتی ہے وہ یہ کہ بیلاڈونا میں بیماری کی علامتیں تیزی سے پیدا ہوتی ہیں اور تیزی سے ختم ہو جاتی ہیں۔کالی بائیکروم کی بیماریوں میں بھی تیزی سے علامتیں پیدا ہوتی ہیں اور تیزی سے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔تعفن کے بخار میں بھی کالی بائیکروم کافی مفید دوا ہے۔جسم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے مریض بستر میں لحاف اوڑھ کر لیٹنے سے آرام محسوس کرتا ہے۔رات کے پچھلے پہر مرض میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔جس وقت کوئی مرض بڑھے، اگلے روز بھی اسی وقت اس میں جوش پیدا ہو گا۔کالی بائیکر وم مرگی کے مرض کو دور کرنے میں بھی شہرت رکھتی ہے۔اگر مرگی کے مریض کے منہ سے دھاگے دار تھوک نکلے تو یہ کالی بائیکر وم کی علامت ہے۔کالی بائیکروم کے سردرد میں گرم مشروب سے آرام آتا ہے۔رات کو درد میں اضافہ ہوتا ہے جو آدھی رات کے کچھ دیر بعد بہت زیادہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔