ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 472 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 472

آیوڈم 472 کے وقت بڑھتے ہیں اور سلفر سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔پھیپھڑوں کی سل بڑھ جائے تو قدرتی طور پر زہریلے مادوں کا اخراج اسہال کے ذریعے ہونے لگتا ہے۔انہیں بند کر دیا جائے تو خطرناک نتائج نکلتے ہیں۔اس لئے ان کا صحیح علاج ضروری ہے۔ہومیو پیتھی طریقہ علاج میں سلفر کے ذریعہ علاج کرنے سے پھیپھڑوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے اور اسہال بھی رک جاتے ہیں۔ایسے مریضوں میں اگر صرف ان کے اسہال کا علاج کیا جائے تو نہایت خطرناک نتیجہ ظاہر ہوتا ہے اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ایسی صورت میں اگر سلفر کام نہ دے تو آیوڈم بھی مفید دوا ہے لیکن علامتیں موجود ہوں تو مکمل شفا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس لئے یہ وقتی علاج نہیں ہے۔اس کی بعض بیماریوں میں سلفر سے مشابہت پائی جاتی ہے جیسے منہ میں سفید چھالے اور زخم ہونا۔ہر قسم کے چھالے اور زخم جو نزلاتی جھلیوں میں بنتے ہیں ان کا بھی آیوڈم سے بہترین علاج ہو سکتا ہے بشرطیکہ مریض مزاجی طور پر آیوڈم کا ہو۔اس کا مریض گرم مزاج ہونے کے باوجود سردی لگ جانے سے نزلہ میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کے لئے یہ ضروری شرط نہیں ہے کہ گرمی سے ہی نزلہ ہو۔آیوڈم کے مریض کی نزلاتی جھلیاں جواب دے جاتی ہیں اس لئے معمولی بہانے سے بھی نزلہ ہوتا رہتا ہے۔ناک میں مواد جم جاتا ہے جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے۔ذراسی ٹھنڈ لگنے یا کھانے پینے میں بداحتیاطی سے نزلہ ہو جاتا ہے۔نزلہ کی بعض دواؤں کا سردی اور گرمی سے تعلق ہے جو اپنی الگ علامتیں رکھتی ہیں اور آیوڈم سے ممتاز ہیں لیکن اگر ناک بند رہے اور ہر وقت نزلاتی کیفیت ہو۔ناک سے خون نکلے اور اس کے ساتھ بھوک بھی بہت ہو تو ایسے مریض کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے آیوڈم اس کی تمام بیماریوں میں شفا کا موجب بن جاتی ہے۔آیوڈم رحم کی رسولیوں میں بھی اچھا اثر دکھاتی ہے۔خصوصاً اگر اس کی دیگر علامتیں بھی موجود ہوں۔اس میں لیکوریا گاڑھا اور تیز سوزش پیدا کرنے والا ہوتا۔وجع المفاصل میں بھی مفید ہے۔آیوڈم کے مریض کو ٹھنڈی ٹکور سے فائدہ ہوتا ہے۔ہے۔