ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 471
آیوڈم 471 بیلاڈونا اور آیوڈم میں مشترک ہے۔چونکہ آیوڈم گرم مزاج کی دوا ہے اس لئے اس کی ایپس (Apis) سے بھی مشابہت ہوتی ہے۔یہ دونوں دوا ئیں گردوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ایپس کی طرح آیوڈم میں بھی آنکھ کے نیچے سوزش ہو جاتی ہے لیکن یہ سوزش صرف نچلے حصہ میں ہی محدود نہیں رہتی بلکہ اس سے آنکھوں کے چھپر بھی سوج جاتے ہیں۔اگر پوری آنکھ میں سوزش ہو تو اس کے لئے فاسفورس بھی مفید ہے۔اگر آنکھ کا صرف چھپر اور غلاف سوجے ہوں تو یہ کالی کارب کی علامت ہے۔وہ مریض جو بی بیماریوں کے نتیجہ میں بالکل نڈھال ہو جائیں اور خون کی کمی کا شکار ہوں تو ان کی آنکھوں کے نیچے تھیلیاں سی لٹک جاتی ہیں اور وہ چھوٹی عمر میں ہی بوڑھے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ان کے لئے چینینم آرس (Chininum Ars) اور سار سپر یلا(Sarsaparilla) وغیرہ مفید ہوسکتی ہیں۔علامات کو اچھی طرح سے پہچان کرد و تشخیص کرنی چاہئے۔آیوڈم کے مریض کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ اسے بھوک بہت لگتی ہے۔ہر بیماری میں بھوک بے چین رکھتی ہے اور بھوک کے دوران بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سورائینم میں بھی بھوک اور بیماری کا باہمی تعلق ہے لیکن سورا ئینم میں بھوک خصوص رات کے وقت چمکتی ہے اور اس کا مریض عموماً ٹھنڈا ہوتا ہے اس لئے ان دونوں دواؤں میں فرق کرنا مشکل نہیں ہے۔آیوڈم کو گردوں کی بیماریوں میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔گردوں میں تکلیف کی وجہ سے ہاتھ پاؤں متورم ہو جاتے ہیں۔اگر گردوں کی بیماری میں آیوڈم کو وقت پر دے دیا جائے تو مریض بہت سی نا قابل علاج اور تکلیف دہ بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔کالی آیوڈائیڈ (Kali Iod) بھی گردوں کے لئے مفید دوا ہے لیکن اس میں السر بننے کا رجحان ہوتا ہے جبکہ آیوڈم میں السر کا رجحان نہیں ہوتا۔آیو ڈام میں اندرونی اعضاء خلا جگر، تلی بھی پھول کر سخت ہو جاتے ہیں اور سارا جسم سوکھ جاتا ہے اس کے باوجود بھوک بدستور موجود رہتی ہے لیکن آخر کار معدہ جواب دے جاتا ہے اور اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔وہ اسہال جن کاسل سے تعلق ہوتا ہے صبح