ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 9

ایکونائٹ 9 4 ایکونائٹ نپیلیس ACONITUM NAPELLUS (Monks Hood) ہومیو پیتھی کو اگر آپ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس پر عبور حاصل کر لیں تو روز مرہ کی بیماریاں اکثر آغاز ہی میں قابو آ جائیں گی اور مزید پیچیدگی پیدا نہیں ہوگی۔بیماریوں کے آغاز میں ایکونائٹ کا نمبر پہلا ہے جس کا پورا نام Aconitum Napellus ہے۔ار، دو میں اسے میٹھا تیلیا“ کہا جاتا ہے مگر عام طور پر یا یکونائٹ کے نام سے ہی مشہور ہے۔یہ ایک زہر ہے جس کا انسانی جسم کے مختلف حصوں پر اثر پڑتا ہے۔کچھ تو طب کی کتابوں میں روایتی طور پر دوسرے زہروں کی طرح اس کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن زیادہ تر تفصیلی اور باریک اثرات کا علم ڈاکٹر ہانیمن اور ہومیو پیتھی کا تجربہ کرنے والے دوسرے ڈاکٹروں نے اپنی اپنی ذات پر آزمائش (Proving) کے ذریعے حاصل کیا۔آزمائش کا طریقہ یہ نہیں کہ ایکونائٹ یا کسی اور زہر کو خالص حالت میں استعمال کر لیا جائے بلکہ جو بنیادی اصول ہانیمن نے پیش کیا اور ا یکونائٹ کے حوالے سے اسے ثابت کیا وہ یہ تھا کہ اگر کسی زہر کو ہلکا کر کے کا لعدم کر دیں کہ وہ بالکل خفیف اور زہر یلے اثر کے لحاظ سے غیر مؤثر ہو چکا ہو۔یہ اگر کسی صحت مند انسان کو بار بار دیا جائے تو جسم اس کی مسلسل چوٹ سے مغلوب ہو جاتا ہے اور اس کے خلاف رد عمل دکھانے کی بجائے ایسی علامتیں ظاہر کرتا ہے جو اصل زہر میں تھیں لیکن یہ علامتیں اتنی خطر ناک نہیں ہوتیں کہ مستقل نقصان پہنچائیں یا زندگی کے لئے خطرہ بن جائیں بلکہ خفیف اور عارضی ہوتی ہیں اور ان کے ذریعہ اصل زہر کا مزاج نہایت بار یکی اور تفصیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔زہروں یا دواؤں کی گہری پہچان کے لئے یہ طریق جسے پروونگ (Proving) کہا جاتا ہے ،