ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 412
گریفائٹس 412 ذہن پر غبار سا چھایا رہتا ہے۔سوچنے سمھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔صبح اٹھنے پر چکر آتے ہیں اور ذہن سن سا محسوس ہوتا ہے۔روشنی نا قابل برداشت ہوتی ہے۔آنکھوں میں جلن ہوتی ہے اور سرخی کے ساتھ پانی آتا ہے۔قوت شامہ بہت تیز ہو جاتی ہے۔مریض پھولوں کی خوشبو برداشت نہیں کرسکتا۔ناک میں درد ہوتا ہے۔بے حد خشکی ہو جاتی ہے اور مواد جم کر چھلکوں کی صورت میں نکلتا ہے۔چہرے پر مکڑی کے جالے کا احساس ہوتا ہے۔دانے نکلتے ہیں جن میں خارش ہوتی ہے۔منہ اور ٹھوڑی کے گردا یگزیما ہو جاتا ہے۔منہ سے سڑی ہوئی بد بو آتی ہے اور زبان پر جلسن دار چھالے بن جاتے ہیں۔گریفائٹس کا مریض عموماً گوشت سے نفرت کرتا ہے۔میٹھی چیزوں سے متلی ہونے لگتی ہے۔ہر کھانے کے بعد متلی اور قے کا رجحان ہوتا ہے۔عورتوں کو حیض کے دوران صبح کے وقت متلی ہوتی ہے۔معدہ پر دباؤ اور جلن کا احساس ہوتا ہے جس سے بھوک لگتی ہے۔گریفائٹس میں گردن، کندھوں، کمر اور بازوؤں میں شدید درد ہوتا ہے۔کمر میں درد کے ساتھ بہت کمزوری ہو جاتی ہے۔بایاں ہاتھ سن ہو جاتا ہے اور بازو بھی متاثر ہوتا ہے۔انگلیوں کے ناخن موٹے، کالے اور بھدے ہو جاتے ہیں۔پاؤں کی انگلیوں میں سختی اور چبھن کا احساس ہوتا ہے اور ناخن موٹے اور ٹیڑھے ہو جاتے ہیں جن میں سخت درد ہوتا ہے۔گریفائٹس کی تکلیفیں گرمی میں، رات کے وقت اور حیض کے دوران اور اس کے بعد بڑھ جاتی ہیں۔اندھیرے میں اور کپڑے لپیٹنے سے تکالیف میں کمی کا احساس ہوتا ہے۔مددگار دوائیں ارجنٹم نائٹریکم۔کاسٹیکم۔ہسپر سلف لائیکوپوڈیم۔آرسنگ۔ٹیوبر کیولائینم دافع اثر دوائیں نکس وامیکا۔ایکونائٹ طاقت: 30 سے 1000 تک