ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 399 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 399

399 ایسی تکلیف مزمن ہو جائے تو جلیسیم زیادہ فائدہ نہیں دیتی ، تازہ تکلیف میں زیادہ مفید ہے۔نظر میں دھندلاہٹ، ایک پتلی پھیلی ہوئی اور ایک سکڑی ہوئی اور آنکھ کی سوزش جلسیمیم کی بھی علامت ہے۔آنکھوں کے سامنے دھند اور جالا سا آ جاتا ہے۔آنکھ کے اعصاب کی کمزوری میں مفید ہے۔ہاتھ پاؤں میں نیم فالجی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔اعضاء میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور کھچاؤ محسوس ہوتا ہے۔کمزوری کے باعث حرکت کرنے کو دل نہیں چاہتا۔نزلاتی تکلیفوں میں جلسیمیم کی علامات نیٹرم میور سے ملتی ہیں لیکن نیٹرم میور میں پیاس نمایاں ہو جاتی ہے اور جلسیم میں پیاس بالکل غائب ہو جاتی ہے۔جلسیسیم میں چھینکیں بہت آتی ہیں۔ناک کی نوک بے حس ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ کانوں میں بھی سن ہونے کا احساس پایا جاتا ہے اور سن ہونے کا یہ احساس صرف جلد تک محدود ہوتا ہے۔جلد گرم اور خشک ہوتی ہے اور خارش ہوتی ہے۔جلسیمیم اس تکلیف میں فوری طور پر فائدہ دیتی ہے۔چہرے اور سر کی جلد پر پھنسیاں نکلتی ہیں۔اعصاب کے کناروں پر نکلنے والے چھالے انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ ہوتے ہیں، انہیں شنگل (Shingle) کہتے ہیں۔اس تکلیف میں بھی جلسیمیم مفید ہے۔عموماً میں لیڈم، آرنیکا اور آرسنک ملا کر دیتا ہوں۔نیٹرم میور بھی مفید ہے مگر میں بیک وقت کوئی سی بھی تین مناسب دواؤں کو ملا کر نسخہ بناتا ہوں جو بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔یعنی آرنیکا ، لیڈیم اور آرسنک میں سے کوئی ایک دوا کم کر کے اس کی بجائے حسب علامات نیٹرم میور یا جلسیمیم داخل کر دیتا ہوں۔ان پانچ دواؤں کے دائرہ میں ہی اللہ کے فضل سے شنگل کی اکثر صورتیں قابو میں آجاتی ہیں۔بعض دفعہ معدے کی خرابی کی وجہ سے مرگی کی طرح کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔معدے سے ایک شعلہ سا نکلتا ہے جو سر یا دل کی طرف جا تا ہوا محسوس ہوتا ہے۔سر پر دباؤ کی وجہ سے مریض بعض دفعہ بے ہوش ہو جاتا ہے یا اسے چکر آتے ہیں اور جسم کا توازن برقرار نہیں رہتا۔یہ علامت جلسیم میں پائی جاتی ہے۔یہ علامتیں معدے کی