ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 392 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 392

فلورک ایسڈ 392 بھی نکلتا ہے اور بہت تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔اس تکلیف میں کوئی معین دوا کام نہیں کرتی کہ اسے دستور کی دوا سمجھ لیا جائے اور ہمیشہ وہی کام کرے مگر جو دوا بھی علامتوں کے مطابق درست ہو وہ فوری فائدہ دیتی ہے۔اس بیماری کے لئے چوٹی کی دواؤں میں آرنیکا، ایسکولس، س سلفیورک ایسڈ اور نائیٹرک ایسڈ ہیں۔اس فہرست میں فلورک ایسڈ بھی لکھ لیں۔ویری کوز و نیز کے حوالے سے کوئی دوا یاد نہ آئے تو بہتر طریقہ علاج یہ ہے کہ مریض کے مزاج کی تشخیص کریں اس طرح بسا اوقات مزاجی دواہی ویری کوز و نیز میں بھی فائدہ پہنچا دیتی ہے۔بعض لوگوں کے سر کی جلد سن ہو جاتی ہے۔حس ختم ہو جاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سر کا پچھلا حصہ لکڑی سے بنا ہوا ہے۔اس تکلیف میں فلورک ایسڈ بہترین دوا ہے۔ہاتھ۔پاؤں سن ہونے کا رجحان بھی فلورک ایسڈ میں ملتا ہے۔اس میں عموماً جسم تلے دبا ہوا حصہ بن نہیں ہوتا بلکہ دوسرا حصہ سن ہو جاتا ہے۔ریڑھ کی ہڈی میں بھی سن ہونے کا احساس ہو تو فلورک ایسڈ مفید ہے۔اسے فوراً اور بروقت استعمال کرنا چاہئے کیونکہ سن ہونے کا احساس کسی وقت اچانک فالج میں تبدیل ہو سکتا ہے۔چونکہ فلورک ایسڈ آہستہ آہستہ اثر کرتا ہے اس لئے ایسے مریضوں کو فلورک ایسڈ دے کر جلد یہ دوا تبدیل نہیں کرنی چاہئے۔اگر مریض کی حالت مزید خراب ہونے سے رک جائے اور ٹھہر جائے اور کچھ کچھ فرق پڑنے لگے تو اس دوا کو جو آہستہ آہستہ اثر کرنے والی ہوا سے لمبے عرصہ تک اثر دکھانے کا موقع دینا چاہئے کیونکہ صبر سے دو تین مہینے تک استعمال کرنے سے بہت خوشگوار علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔صرف یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس دوا کے استعمال کے دوران مریض کی حالت مزید بگڑے نہیں بلکہ بہتری کی طرف مائل رہے۔شیر خوار بچوں کے سر کے ایگزیما میں بھی فورک ایسڈ بہت مفید ہے۔بڑوں میں یہ علامت نمایاں ہوتی ہے کہ سر کے بالوں والے حصہ میں خارش نہیں ہوتی بلکہ جو حصے