ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 372 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 372

یو پیوریم 372 کیونکہ یہ مریض کو مزید پیچیدگیوں سے بچاتا ہے۔یو پٹیوریم میں ہڈیوں کے درد کے ساتھ سردی کا احساس ضرور پایا جاتا ہے۔یہ علامت ملیریا کی بھی نشاندہی کرتی ہے اس لئے یو پٹیوریم ملیریا کی بھی ایک مفید دوا ہے۔اس کی سردی صبح چھ بجے سے لے کر نو بجے تک زیادہ محسوس ہوتی ہے۔یو ٹیوریم کی علامتیں سورج چڑھنے کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہیں جبکہ نیٹرم میور کی علامتیں اشراق کے وقت صبح نو بجے کے بعد بڑھتی ہیں۔اگر وبائی صورت میں ملیر یا ظاہر ہواور یو پٹیوریم چند مریضوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہو تو اس وبا کے اکثر مریضوں میں یو ٹیوریم ہی کام آئے گی۔سب سے پہلے تو اس میں شدید پیاس ملتی ہے۔سردیوں میں بھی ٹھنڈا پانی پینے کو دل چاہتا ہے جس سے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے لیکن پیاس بجھنے میں نہیں آتی۔مریض اپنے آپ کو خوب لپیٹ کر رکھتا ہے۔جب سردی ختم ہو اور بخار چڑھ جائے تو قے شروع ہو جاتی ہے اور کھلا پسینہ بھی آتا ہے لیکن اس پسینہ سے بخار نہیں اترتا۔قے میں صفراء بہت آتا ہے۔شروع میں جتنی زیادہ سردی لگتی ہے بخار چڑھنے کے بعد اتنی ہی گرمی اور حدت کا احساس ہوتا ہے۔اگر درجہ حرارت 103 ہو تو مریض 106 درجہ حرارت محسوس کرتا ہے یعنی گرمی اور سردی دونوں کے احساس کی شدت یکساں ہوتی ہے۔بخار جب پوری طرح چڑھ جائے تو پسینہ آنا بند ہو جاتا ہے۔جب بخار ٹوٹے تو اس وقت پھر پسینہ آتا ہے جس کے ساتھ بخار ٹوٹنے کا عمل تیز ہو جاتا ہے لیکن سر میں شدید درد شروع ہو جاتا ہے جو عام تجربے سے برعکس علامت ہے کیونکہ ملیریا کے اکثر مریضوں کو جب پسینہ کے ساتھ بخارٹوٹے تو بخار کے دوران ہونے والے سردرد کو بھی آرام آیا کرتا ہے۔یہ طرفہ تماشہ یو پیٹوریم میں ہی ملے گا کہ بخار ٹوٹ رہا ہو اور سر درد بڑھ رہا ہو۔معالجین کو بار ہا ملیریا کے ذکر میں یہ تنبیہ کی جاچکی ہے اور اب پھر اسے دہرایا جاتا ہے کہ خصوصاً ملیریا میں چڑھتے بخار میں اس وقت تک دوا نہیں دینی چاہئے جب تک بخار ٹوٹنا نہ شروع ہو جائے۔دوا دینے کا سب سے اچھا وقت تو وہ ہوتا ہے جب ملیریا بخار کے دو حملوں کے درمیان وقفہ پڑتا ہے۔اس وقت اگر صحیح دوا دی گئی ہو تو یا تو بخار کا اگلا