ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 334
کروفیلس 334 گلاس بھر پانی میں ڈال کر دن میں تین دفعہ پلانے سے نمایاں فرق پڑتا ہے۔اگر مریض بہت موٹا ہو، چربی کی تہیں چڑھی ہوں، اسے تیز مصالحوں والی چیزوں کا جنون ہو اور شراب کی عادت بھی ہو تو ایسے مریضوں کی دوا کر ٹیلس ہے۔کر پیلس کے مریض کی آنکھیں زرد ہوتی ہیں اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ جاتے ہیں۔آنکھوں میں ایسے جلن دار درد ہوتے ہیں جیسے کسی نے چاقو سے زخمی کر دیا ہو۔خون بہنے کا رجحان بھی ہوتا ہے۔نظر دھندلا جاتی ہے۔بعض دفعہ شدید کمزوری سے بینائی جاتی رہتی ہے۔روشنی نا قابل برداشت ہوتی ہے۔کانوں سے بھی خون بہتا ہے، دایاں کان بند ہو جاتا ہے، اعصابی کمزوری بہرے پن پر منتج ہو جاتی ہے۔کان میں تکلیف کی وجہ سے چکر آتے ہیں، ہلکا ہلکا درد اور دھڑکن کا احساس، آوازوں اور شور سے زود حسی بڑھ جاتی ہے۔کر ٹیلس میں ناک سے خون ملی ہوئی رطوبت کا اخراج ہوتا ہے۔نکسیر بھی بہتی ہے، خون کا رنگ سیاہ اور دھاگے کی طرح بٹا ہوا ہوتا ہے۔ہونٹ متورم اور بے حس ہو جاتے ہیں۔چہرہ بھی زرد اور متورم ہو جاتا ہے۔زبان اور گلے میں خشکی کی وجہ سے بولنا مشکل ہوتا ہے۔ٹھوس چیز نگلتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے۔زبان سرخ، خشک اور سوجی ہوئی ہوتی ہے۔ایسے مریض کی زبان کا کینسر بسا اوقات کر ڈٹیلس کا مطالبہ کرتا ہے۔کر ٹیلس کا مریض معدہ کے گرد کسی قسم کا کپڑا برداشت نہیں کرسکتا۔کوئی چیز اس کے معدے میں نہیں ٹکتی بلکہ شدید قے آجاتی ہے۔صفراوی مادے نکلتے ہیں۔خون کی قے بھی آتی ہے۔معدہ میں خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔مریض کو یا تو قبض ہوگی یا دست شروع ہو جائیں گے۔سیاہ، پتلی اور متعفن اجابت جس میں خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔سرخ یا زردی مائل پیشاب آتا ہے۔گردے متورم ہوتے ہیں۔جگر کے مقام پر درد ہوتا ہے۔دل میں بھی کمزوری محسوس ہوتی ہے۔دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔نبض عموماً تیز ہوتی ہے یا بہت کمزور پڑ جاتی ہے۔جوڑوں میں درد بھی کر ڈٹیلس کی علامت ہے۔غدود متورم ہو جاتے ہیں، ہاتھ پاؤں