ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 310 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 310

کاکولس 310 ہے۔اچانک حرکت سے توازن بگڑ جائے تو کا کولس اول طور پر ذہن میں آنی چاہئے۔کاکولس کے پرانے مریض کی جلد پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے۔کوئی چیز پکڑتے ہوئے ہاتھ کا پیتے ہیں۔اعضاء آپس میں ہم آہنگ نہیں ہو سکتے اور ان میں عدم توازن پایا جاتا ہے۔ایسے مریض اچانک مر نہیں سکتے۔انہیں آہستہ آہستہ مڑنا پڑتا ہے ورنہ شدید چکر آتے ہیں۔کا کولس کی بعض علامتیں بیلا ڈونا سے ملتی ہیں۔بیلا ڈونا میں بھی چکر آتے ہیں جو اچانک حرکت سے بڑھ جاتے ہیں لیکن بیلاڈونا میں خون کے دباؤ میں کمی بیشی کی وجہ سے چکر آتے ہیں۔دونوں دواؤں میں معمولی سا شور اور جھٹکا بھی نا قابل برداشت ہوتا ہے۔بے خوابی اور دیگر ذہنی تناؤ بھی دونوں میں مشترک ہے۔تاہم یہ دونوں دوائیں ایک دوسرے سے مشابہ ہیں البتہ کا کولس میں بیلا ڈونا کے برعکس مریض کا چہرہ بالکل عام سے رنگ کا ہوتا ہے اور چہرے کی طرف خون کا غیر معمولی رجحان دکھائی نہیں دیتا۔کا کولس میں عضلات کی سختی اور اکڑن پائی جاتی ہے۔اعضاء کو سکیٹر نے یا پھیلانے سے شدید درد ہوتا ہے۔کاکولس میں پیٹ درد کا دورہ شدید ہوتا ہے۔معدہ میں اینٹھن اور مروڑ اٹھتے ہیں۔درد سے بعض اوقات سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔کئی عورتیں تکلیف کی شدت سے بے ہوش ہو جاتی ہیں۔کھانے سے نفرت ہو جاتی ہے اور بھوک کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔کا کولس میں جہاں پیغامات کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں آہستگی پائی جاتی ہے وہاں وقت کے تیزی سے گزرنے کا احساس بھی ہوتا ہے۔ٹانگوں میں بہت خطرناک فالج کا حملہ ہوتا ہے جس سے دونوں ٹانگیں بے حس ہو جاتی ہیں۔اس فالج کے پس منظر میں لمبی فکر ارت جنگا مشکلات اور پریشانیاں ہوتی ہیں۔کا کوکس کا مریض ذہنی دباؤ اور اعصابی کمزوری کی وجہ سے ہر سوال کا جواب آہستگی سے دیتا ہے۔تصورات کی دنیا میں غرق رہتا ہے۔اسے شدید افسردگی کے دورے پڑتے