ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 305
305 احساس ہوتا ہے۔پنیر کھانے کی بہت خواہش ہوتی ہے۔پہلے اور زور دار دست لگ جاتے ہیں جو عموماً صبح کے وقت زیادہ آتے ہیں۔مریض کا دل تیز مسالے دار چیزیں کھانے کو چاہتا ہے خصوصاً عورتوں کا۔سسٹس میں ہاتھوں کی جلد سخت، خشک اور موٹی ہو جاتی ہے،سخت خارش ہوتی ہے اور مریض بے چینی کی وجہ سے سو نہیں سکتا۔عورتوں کی چھاتیوں کے گلینڈز کی خرابی میں بھی یہ دوا مفید ہے لیکن اس کی کوئی امتیازی علامت نہیں ہے۔شاید اس دوا کی دیگر علامتوں کی وجہ سے پہچان ہو سکے۔چھاتیوں کے غدودوں کا بڑھ جانا جو بعض دفعہ کینسر بن جاتے ہیں۔ان میں استعمال ہونے والی دواؤں میں سسٹس بھی ہے۔خنازیر (ہجیر میں) یعنی گلے کے باہر گلٹیوں کی زنجیر سی بن جائے اور گلینڈ ز سوجے ہوئے ہوں تو یہ کسٹس کی خاص علامت ہے۔اگر گلے کی اندرونی اور بیرونی علامات میں گلینڈز پر کوئی اثر ظاہر نہ ہو تو پھر سمٹس دوا نہیں ہے۔کان کی کھجلی میں اگر خارش کرنے سے آرام نہ آئے ، چھیل چھیل کر زخم بن جائیں اور ان میں پیپ بننے لگے تو سسٹس کام آ سکتی ہے۔کھانسی میں بھی ایسی ہی خارش اور بے چینی پائی جاتی ہے۔بیماری کی جڑیں نیچے تک جاتی ہیں اس لئے اوپر کی کھجلی سے فائدہ نہیں ہوتا۔جب تک کہ اندر کا مرض ابھر کر اور باہر نکل کر جلد پر ظاہر نہ ہو جائے۔ایلو پیتھک سائنس کے مطابق جسم کے اندر جو بھی مرض ہو وہ الگ مرض ہوتا ہے اور جلد کو لگنے والے امراض الگ ہوتے ہیں۔لیکن ہو میو پیتھک نظریہ کے مطابق یہ ایک ہی بنیادی کمزوری کے مختلف اظہار ہوتے ہیں جو اندرونی جھلیوں اور غدودوں پر اور بیرونی جلد پر الگ الگ بیماریوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ناخنوں کی تکلیفوں میں بھی سسٹس اہم دوا ہے۔اگر بعض امراض گہری اتر جائیں تو وہ ناخنوں پر اثر دکھاتی ہیں۔ناخنوں میں لکیریں بن جاتی ہیں ، ناخن موٹے اور بھدے ہو کر ٹیڑھے میڑھے ہونے لگتے ہیں اور ان کی شکل بدل جاتی ہے۔بیماریوں سے ناخنوں کے اس تعلق میں سسٹس ایک نمایاں دوا ہے۔بعض اور دوائیں بھی ناخنوں پر