ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 295 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 295

سائنا 295 73 سائنا CINA سائنا بچوں کی دوا ہے اور پیٹ کے کیڑوں کے لئے مشہور ہے۔اس کے مزاج کی خصوصیت بدمزاجی ہے۔اس کے مریض بچے چھوٹی چھوٹی بات پر ناراض ہو جاتے ہیں، کوئی چیز انہیں خوش نہیں کر سکتی ، بہت حساس ہوتے ہیں۔یہ زود حسی صرف مزاج کی ہی نہیں ہوتی بلکہ ان کی جلد بھی بہت زود حس ہو جاتی ہے۔مریض نہ کسی کو اپنے قریب آنے دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو چھونے دیتا ہے۔اگر ذرا سا بھی ہاتھ لگ جائے تو سخت برا مناتا ہے۔کوئی اجنبی آ جائے تو اس سے بھی بہت گھبراتا ہے۔کیمومیلا کے مریض کی طرح یہ طرح طرح کی فرمائشیں کرتا ہے لیکن جب فرمائش پوری کر دی جائے تو اپنی مانگی ہوئی چیز پرے پھینک دیتا ہے۔اگر کوئی اسے ٹکٹکی لگا کر دیکھے تو ناراض ہو جاتا ہے۔جو مریض سائنا کا تقاضا کرتے ہیں وہ سوتے میں دانت پیستے ہیں۔نیند میں جھٹکے لگتے ہیں، آنکھ بار بارکھلتی ہے۔ڈر کر اور گھبرا کر اٹھ جاتے ہیں، کتوں، جنوں اور بھوتوں کی خوفناک خوا میں آتی ہیں۔نیند میں چھینیں مارتے ہیں اور کانپ کر اٹھ جاتے ہیں۔بچے گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل سونا پسند کرتے ہیں۔سائنا کے مریض کی آنکھوں میں شیشے کی طرح ہلکی سی چمک آ جاتی ہے۔آنکھوں کے سامنے مختلف رنگ ناچتے ہیں جن میں زرد رنگ نمایاں ہوتا ہے۔پتلیاں پھیل جاتی ہیں اور آنکھوں کے آگے اندھیرا بھی چھا جاتا ہے۔ناک میں ہر وقت خارش ہوتی ہے اور مریض ناک کو رگڑتا رہتا ہے۔کھجلی کبھی ختم نہیں ہوتی۔نتھنوں کے کنارے سکڑ کر اندر کی طرف چلے جاتے ہیں۔منہ کے اردگرد اور ہونٹوں کے پاس زردی مائل یا نیلے گول گول داغ بن جاتے ہیں۔