ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxxi of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxxi

دیباچہ 19 رہیں پھر بھی اثر دکھاتی ہیں۔لیکن عموماً انہیں معتدل درجہ حرارت پر خشک جگہوں پر رکھنا چاہیے۔شیشیوں کے ڈھکنے اچھی طرح سے بند ہوں۔درجہ حرارت بڑھنے سے عموماً دوا خراب نہیں ہوتی لیکن اگر دو انکلچر کی صورت میں ہو اور شیشی کے ڈھکنے کو احتیاط سے بند نہ کیا گیا ہو تو درجہ حرارت بڑھنے سے دوا سوکھ جاتی ہے۔اگر شیشی بالکل خشک ہو جائے تو تازہ دوا بنانی چاہیے لیکن ایک قطرہ بھی موجود ہو تو اس میں دوبارہ محلول ڈال کر اسے بھر سکتے ہیں۔اس طرح دوا کی پوٹینسی ایک درجہ زیادہ ہو جائے گی یعنی 30 سے 31 یا200 سے 201 لیکن عموماً اس کے اثر میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ہومیو پیتھی دواؤں کے بارے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ انہیں براہ راست دھوپ میں نہ رکھا جائے کیونکہ سورج کی شعاعوں سے ان دواؤں کا اثر زائل ہوسکتا ہے۔اگر دوا کی خالی شیشیاں دوبارہ استعمال میں لانی ہوں تو انہیں پانی میں ابال کر خشک کر کے دھوپ میں رکھ دیں تا پہلی دوا کے تمام اثرات مٹ جائیں۔سب دواؤں کو الگ الگ شیشیوں میں رکھنا چاہیے۔اگر چہ بعض دواؤں کے نسخے بنا کر رکھنے سے اثر کلیتا زائل تو نہیں ہوتا لیکن وہ دوائیں جو ایک دوسرے کے اثر کو زائل کر دیں اور آپس میں ہم مزاج نہ ہوں انہیں الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔ضرورت کے مطابق تازہ مکسچر بنایا جائے تو بہتر ہے به نسبت اس کے کہ مکسچر بنا کر رکھا جائے۔دوا کو حتی الامکان تیز خوشبو کے اثرات سے بچا کر رکھنا چاہیے خصوصاً کافور کی خوشبو تو اکثر ہومیو پیتھی ادویہ کے اثر کو زائل کر دیتی ہے۔اگر کمرے میں خوشبو یا تیز دوا کا سپرے کیا گیا ہو تو جب تک اس کا اثر زائل نہ ہو جائے مائع ہو میو پیتھک دواؤں کی شیشیاں نہ کھولی جائیں۔الیکٹرولائٹ (Electrolyte) خون کا وہ سیال مادہ جس میں سرخ اور سفید ذرے معلق رہتے ہیں اسے پلازما کہتے ہیں۔اس