ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 270 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 270

کیمومیلا 270 تک وہ ٹھیک نہیں ہو گا اس وقت تک عام دواؤں کو جو فائدہ دینا چاہئے وہ نہیں دیتیں کیونکہ سارے جسم کی توجہ ایک خاص طرف ہی رہتی ہے۔انسانی رد عمل توجہ کو چاہتا ہے۔اگر کیمومیلا کا مریض ہو اور بعض علامتیں کیمومیلا کی نہ ہوں تو عین ممکن ہے کہ وہ معین بیماری ٹھیک نہ ہو کیونکہ ہر دوا کا ایک آدمی کے مزاج کے سو فیصد مطابق ہونا ضروری نہیں۔انسانی جسم بہت ہی وسیع اور بہت پیچیدہ نظام رکھتا ہے اس لئے بعض دفعہ ایک دوا کے بعد اور دواؤں کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔کیمومیلا غیر معمولی حساس مریضوں کی دوا ہے اس لئے اس میں اعصابی بے چینی سے جھٹکے بھی لگتے ہیں اور عضلات پھڑکتے ہیں۔شکنجے پڑنے کا احساس بھی ہوتا ہے اور عضلاتی اور اعصابی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے۔کیمومیلا میں کافیا نکس وامیکا اور او پیم کی بھی کچھ مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔کافیا اور نکس وامیکا کا مریض بھی کافی زود حس ہوتا ہے۔اوپیم کا مریض بظاہر بے حس، بے پرواہ اور غنودگی کی سی حالت میں رہتا ہے لیکن درحقیقت وہ اندرونی طور پر بہت حساس ہے۔او پیم اگر زہر کے طور پر کام کرے تو مریض کا دماغ سخت مشتعل، بے چین اور بے سکون ہو جاتا ہے۔بڑی مقدار میں دی جائے تو پہلا رد عمل بے ہوشی کی صورت میں اور دوسرا اعصاب میں تناؤ اور خشکی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کیمو میلا کی بعض علامتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس لئے اوپیم مزاج کے بعض مریضوں میں سخت غصہ پایا جاتا ہے۔الگ تھلگ رہتے ہیں، تنہائی اور خاموشی کو پسند کرتے ہیں، ہر چیز ان کے اعصاب میں جھنجناہٹ پیدا کرتی ہے اور وہ بہت زود حس ہو جاتے ہیں۔بچوں کو معمولی سی تکلیفوں اور بخار وغیرہ سے تشنج ہو جائے، اگر مزاج کیمومیلا کا ہو تو فوری فائدہ دیتی ہے۔کیمومیلا بچوں کی پیچش میں بہت اچھی دوا ہے۔ایسی چپش جو لیس دار ہو اور سبز رنگ کی ہو جیسے اس میں گھاس کتر کر ڈالا گیا ہو تو اس میں کیمومیلا کو اولیت حاصل ہے۔اپی کاک بھی اس کی اچھی دوا ہے۔اس میں اجابت کی علامتیں کیمومیلا سے ملتی ہیں لیکن مزاج کا بہت نمایاں فرق ہے۔