ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 225
225 کینیبس انڈیکا یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک شخص کے ذہنی خیالات دوسرے کے ذہن کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں۔دور کی جگہ پر رکھی ہوئی چیزیں ایک چھٹی جس کے ذریعہ معلوم ہو جاتی ہیں۔دنیا کے بعض مؤقر سائنس دانوں نے اپنے تجربات سے بذریعہ تحقیق یہ ثابت کیا ہے کہ یہ محض و ہم نہیں بلکہ انسان کے اندر ایک دبا ہوا ملکہ ہے۔اگر کسی نفسیاتی بیماری کی وجہ سے یہ کیفیت ہو تو کینییس استعمال کرنی چاہئے۔کینیس کا مریض نیند میں دانت کٹکٹاتا ہے۔بولتے ہوئے ہکلاتا ہے۔پانی پینے سے تو نہیں گھبرا تا مگر پانی سے ہاتھ پاؤں دھونے اور نہانے سے گھبراتا ہے۔پیٹ میں بہت ہوا بنتی ہے۔سارے پیٹ میں سخت تناؤ ہوتا ہے۔کینیس کے مریض کو بکثرت پیشاب آتا ہے اور یہ علامت اسے او پیم سے ممتاز کرتی ہے۔اوپیم میں پیشاب رک جاتا ہے اور خشکی پائی جاتی ہے۔تمام اخراجات خشک ہو جاتے ہیں۔کینیبس میں گردوں کی بیماریاں بھی ہوتی ہیں۔بار بار پیشاب آتا ہے لیکن ہر دفعہ پیشاب آنے کے لئے کچھ انتظار کرنا پڑتا ہے اور پیشاب ختم بھی آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔پیشاب کی نالی میں جلن اور ہلکے درد کی شکایت بھی ہوتی ہے۔کینی بس سٹائیوا میں بھی یہ علامت ملتی ہے لیکن کینیس انڈیکا کے مقابل پر بہت زیادہ۔اس لئے سوزاک کی دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔سوزاک کے بعض مریضوں کو اس کی CM میں ایک ہی خوراک دینے سے شفا ہو جاتی ہے۔یہ دبے ہوئے سوزاک کو ابھارنے اور پھر ٹھیک کرنے میں بھی بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔اس مرض کے ازالے کے لئے مرک کا ر بھی CM طاقت میں مفید بتائی جاتی ہے۔لینس انڈیکا میں حیض دب جاتا ہے اور حمل ضائع ہونے کا رجحان بھی ہوتا ہے۔جنسی جوش اور تحریک پائی جاتی ہے۔دل کی تکلیف رات کو زیادہ محسوس ہوتی ہے۔دباؤ اور سانس گھٹنے کا احساس ساری رات رہتا ہے جو دن میں چلنے پھرنے سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔رات ہوتے ہی تکلیف دوبارہ شروع ہو جاتی ہے۔کمر کے عضلات کی کمزوری کی وجہ سے کئی لوگ کبڑے ہو جاتے ہیں۔اگر شروع میں علامات پید اہوتے ہی