ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 224 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 224

کینییس انڈیکا نشہ بازوں کو بہت پہنچے ہوئے پیر سمجھا جاتا ہے۔224 کینہس کے مریض سنجیدہ باتوں پر بھی ہنتے رہتے ہیں۔نہ بنسی پر قابو ہوتا ہے نہ رونے پر کبھی ہنستے ہیں تو ہنتے ہی چلے جاتے ہیں اور روتے ہیں تو روتے ہی چلے جاتے ہیں۔یہ رجحان گہرے مرض کی نشاندہی کرتا ہے۔ہنسنا اور رونا دھوپ چھاؤں کی طرح ساتھ ساتھ چلے اور اس میں پاگل پن کی مستقل علامت کی بجائے وقتی نشے کی کیفیت ہو تو یہ کینیس انڈیکا کی علامت ہے۔نشہ ختم ہونے کے بعد جو علامتیں پیدا ہوتی ہیں وہ الگ سے سمجھنی چاہئیں۔دماغ کو نقصان پہنچنے کے نتیجہ میں مریض موت سے بہت خوفزدہ رہتا ہے۔کینیس کے مریض کو ہر وقت یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ وہ پاگل ہو جائے گا۔اندھیرے سے ڈرتا ہے۔ایسا مریض مسلسل بے تکی بحثیں کرتا رہتا ہے۔اس کی سوچ میں منطقی ربط نہیں رہتا۔بھنگ کے عادی لوگ عام طور پر بات کرتے ہوئے فقرہ مکمل نہیں کرتے۔جولوگ نشہ کے بغیر ہی ایسار جحان رکھتے ہوں۔ان کو کینیپس کے استعمال سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ہو میو پیتھ معالجوں نے پروونگ (Proving) کے دوران یہ تجربہ کیا ہے کہ کینیبس کے مریض میں خیالات کا ہجوم اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ ان کے بیان کی کوشش میں مریض بے ربط جملے بولنے لگتا ہے۔خیالات برانگیختہ ہو جاتے ہیں۔دماغ میں صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ خیالات اور تصورات بھی نامکمل ہوتے ہیں۔اچھی بھلی بات کرتے کرتے بغیر دلیل اور بغیر منطق کے کچھ اور بولنے لگتے ہیں کیونکہ اچانک ایک نیا خیال ذہن میں آجاتا ہے۔اس سے وہ بہت پر جوش ہو جاتے ہیں اور پھر اسی کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔تصور کی دنیا میں کھو جاتے ہیں۔موسیقی سے بہت لطف اندوز ہوتے ہیں۔کبھی جذبات میں جوش اور انتشار بھی پایا جا تا ہے۔کیمپس کے مریض کے سر میں لہریں مارتے ہوئے درد کا احساس ہوتا ہے جس کے ساتھ دھڑکن بھی سنائی جاتی ہے، گدی میں بوجھ محسوس ہوتا ہے، کنپٹیوں میں بھی دھڑکن کا احساس ہوتا ہے۔