ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 213 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 213

کلکیر یا سلف 213 اثر انداز ہوتی ہے اور اس میں اچانک تشبیح کی علامت پائی جاتی ہے اور دم گھٹتا ہے۔اس قسم کی گھٹن کا مزاج ہپر سلف میں بھی ملتا ہے۔سانس کی نالی میں گھٹن اور تنگی کا احساس اور نزلہ کے بعد مستقل خراش باقی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے معمولی ہوا اندر جانے سے یا بولنے سے بھی سانس گھٹتا ہے۔اگر تشخیص درست ہو تو کلکیر یا سلف گردے کی پرانی سوزش میں بھی مفید ہے۔کلکیر یا سلف میں کسی ایک جگہ گرمی محسوس نہیں ہوتی بلکہ سارے جسم کو گرم کپڑا اوڑھنے سے اور بستر کی گرمی سے گھبراہٹ ہوتی ہے۔کلکیر یا سلف جس کی مزاجی دوا ہوگی اس کے دمے اور کان کی تکلیفوں میں بھی فائدہ دے گی۔اسی طرح جس شخص کی یہ مزاجی دوا ہو اس کے ملیریا کے قلع قمع کے لئے بھی یہ بہت کافی ہے۔اس تعلق میں اس کی صرف یہ علامت بیان کی گئی ہے کہ بخار کے آغاز میں سردی پاؤں سے شروع ہوتی ہے۔لیکن بہت سی دوسری دواؤں میں بھی یہی علامت پائی جاتی ہے۔اس لئے صرف اسی علامت سے کلکیر یا سلف کی شناخت نہیں ہوسکتی۔علامت کی تمیز کرنے کے لئے دیگر علامتوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔کلکیر یا سلف کی ایک علامت یہ ہے کہ آنکھوں سے زرد رنگ کی گاڑھی رطوبت خارج ہوتی ہے،نظر دھندلا جاتی ہے اور اکثر چیزیں صرف آدھی نظر آنے لگتی ہیں۔کان سے بھی خون کی آمیزش کے ساتھ رطوبت نکلتی ہے۔ناک سے بھی نزلہ میں زردی مائل مواد خارج ہوتا ہے۔گلے میں درد اور زرد رنگ کی بلغم کا اخراج ہوتا ہے۔اسی طرح اسہال میں بھی پیپ کی طرح کا چکنا مواد نکلتا ہے جس میں بسا اوقات خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے۔کلکیر یا سلف میں خارش بھی ہوتی ہے، زخموں سے پیپ نکلتی ہے اور یہ زخم جلد۔مندمل نہیں ہوتے۔پیلے رنگ کے کھرنڈ بن جاتے ہیں۔بالوں کی جڑوں میں سخت سے دانے بنتے ہیں جن میں خارش ہوتی ہے اور جلد خون نکل آتا ہے۔بچوں کے خشک ایگزیما میں بھی کلکیر یا سلف کی یہی علامت ہے۔کلکیر یا سلف کے مزاجی مریض میں نیند کا