ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 174
174 پاگل پن کی بجائے بھولا پن آ جاتا ہے۔اگر ساٹھ سال کا بوڑھا آدمی پندرہ سولہ سال کے لڑکوں کی طرح باتیں کرنے لگے تو اسے بھی بوفو دینی چاہئے۔اگر وقت پر علاج نہ ہو تو ایسا شخص مجہول سا ہو جاتا ہے۔اس میں لوگوں سے بات کرنے اور اسے دوسروں کو سمجھانے کی صلاحیت نہیں رہتی۔بوفو میں تضادات پائے جاتے ہیں۔مریض تنہائی پسند ہوتا ہے، لوگوں سے گھبرا تا ہے لیکن تنہائی میں ڈرتا ہے۔اس کے نتیجہ میں اسے بہت غصہ آتا ہے اور غصے میں آ کر چیزوں کو دانت سے کاٹنے لگتا ہے۔گویا اپنی بے بسی اور بے اختیاری کا اظہار اس طریقہ سے کرتا ہے مگر دوسرے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاتا۔مریض ہنستا بھی ہے، رونے بھی لگ جاتا ہے اور بچوں کی طرح اچھل کود بھی کرتا ہے۔بوفو کے مریض کا کردار اس کی معصومیت اور بچپنے سے پہچانا جاتا ہے۔شاذ کے طور پر یہ کیفیت بڑھ کر پاگل پن میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔بونو اس سلسلہ میں بہت گہری دوا ہے اور لمبے عرصہ تک مسلسل اثر کرتی ہے۔بوفو میں جزوی فالج کا رجحان ملتا ہے۔مختلف اعضاء کے مفلوج ہونے کے نتیجہ میں ان کے اوپر کی جلد بے حس ہو جاتی ہے۔اس میں عضلات کا شیخ بھی عام ہے۔مرگی کے حملہ سے پہلے شیخ کے نتیجہ میں منہ پورا کھل جاتا ہے۔منہ سے خون نکلتا ہے اور جھٹکے سے زبان یا ہونٹ کٹ جاتے ہیں اور بہت تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ عموماً سردرد کا حملہ ہوتا ہے، آنکھ کی پتلیاں پھیل کر ایک جگہ ساکت و جامد ہو جاتی ہیں۔مریض روشنی برداشت نہیں کرسکتا۔جلد میں زخم اور ناسور بننے کا رجحان ہوتا ہے۔آنکھ خون سے بھر جاتی ہے۔آنکھ کے کو دنیا میں بھی زخم ہو جاتے ہیں۔آنکھ اور بدن پر کہیں کہیں چھالے بھی بن جاتے ہیں جو کچھوں کی صورت میں ہوتے ہیں۔اینٹی مونیم کروڈ اور اینٹی مونیم ٹارٹ بھی ایسے چھالوں میں مفید بتائی جاتی ہیں۔بونو ہر قسم کی جلدی امراض میں مفید ہے بشرطیکہ بوفو کی دیگر علامات بھی نمایاں ہوں بوفو میں ایمرا گر یسا کی طرح موسیقی سے نفرت ہو