ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xviii of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xviii

دیباچہ 6 موہوم حملہ کو پہچان کر اس کے خلاف رد عمل دکھائے گا۔بسا اوقات یہ زہر ہلکا کرتے کرتے عملاً بالکل معدوم کر دیا جاتا ہے اور ایک نقطہ پر پہنچ کر اصل زہر کا کوئی نشان بھی اس دوا مین باقی نہیں رہتا جس سے دوا بنانے کا آغاز ہوا تھا۔جوں جوں اس عمل کو اور آگے بڑھاتے چلے جائیں یعنی اس محلول کو جس میں ابتداء کسی زہر کا قطرہ ڈالا گیا تھا مزید محلول ڈال کر یہ امر یقینی بنا دیا جائے کہ اصل زہر کی ایک لطیف یاد کے سوا اس محلول میں اس زہر کا کوئی ایٹم تک باقی نہیں رہا تو جتنی بار اس عمل کو آگے بڑھائیں گے اتاہی اس محلول کی ہومیو پیتھک پوٹینسی اونچی ہوتی چلی جائے گی۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس محلول میں گھلی ہوئی موہوم یاد کے پیغام کو روح سمجھ جاتی ہے اور روح کے تابع جسم بھی عمل دکھاتا ہے اور اس کا دفاعی نظام اس حملہ کے خلاف بیدار ہو جاتا ہے۔اگر روح میں یہ صلاحیت نہ ہو کہ زہر کی محض ایک یاد کے حملہ کو سمجھ سکے اور بعینہ اس کے خلاف دفاع کے لئے جسم کے دفاعی نظام کو تیار کر سکے تو 30 طاقت سے اوپر کوئی ہومیو پیتھی طاقت بھی کام نہیں کر سکے گی۔لیکن مشاہدہ بتاتا ہے کہ ایک قانون کی طرح لازما بہت اونچی طاقتیں یعنی ایک لاکھ طاقت میں بھی ہو میود وا قطعی اثر دکھاتی ہے۔یہ اتنا لطیف نظام ہے کہ کہ روح کے وجود کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں رہتا۔اصل زہر کا موجود ہونا تو کجا، ہومیو پیتھی دوا کی اونچی طاقتوں میں اس کے واہمہ کا موجود ہونا بھی ممکن نہیں ، پھر بھی وہ دوا بھر پور اثر کرتی ہے۔ہومیو پیتھی کے منکرین تو الرجی کے نظام کی بھی کوئی معقول تو جیہ پیش نہیں کر سکتے۔ایک دفعہ امریکہ میں ایک ایسی خاتون پر جسے انڈے سے الرجی ہو جاتی تھی ڈاکٹروں نے تجربہ کیا اور اسے ایک ایسی عمارت میں رکھا جس کی کسی منزل پر بھی انڈا رکھنے کی اجازت نہیں تھی خواہ وہ کسی پرندے کا بھی ہو، وہاں کچھ عرصہ تک وہ بالکل ٹھیک رہی لیکن ایک دن اسے اچانک شدید الرجی ہوگئی۔اس پر فوری طور پر تحقیق شروع ہوئی اور نیچے سے اوپر تک اس بلند و بالا عمارت کے ایک ایک کونے کی مکمل