ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 138

بیلاڈونا 138 بھی آتے ہیں۔ایسے مریض کو بیلا ڈونا دیں تو آگ لگنے کے خواب آنے بند ہو جائیں گے۔بیلا ڈونا میں گہری بے ہوشی کا رجحان ملتا ہے۔جس میں آنکھ کی ایک پتلی پھیل جاتی ہے۔یہ علامت او پیم سے بھی ملتی ہے جبکہ اوپیم باقی علامتوں میں بیلا ڈونا سے مختلف ہے۔بچے کا بخار بہت تیز ہو اور اس کا سر پر زیادہ اثر ہو، پاؤں برف کی طرح ٹھنڈے ہوں تو بیلاڈونا ہی اولین دوا ہونی چاہئے۔بخار میں جسم ٹھنڈا ہو جائے لیکن سر پر گرمی کا احساس ہو تو یہ بہت خطرناک علامت ہے۔مائیں سمجھتی ہیں کہ بخار اتر گیا ہے لیکن وہ بیماری کی بے ہوشی سی ہوتی ہے۔اگر صحیح دوا دیں تو ایک دم سارا جسم گرم ہو جائے گا ورنہ خطرناک بیماریاں مثلاً گردن توڑ بخار، مرگی وغیرہ پیدا ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ایسے موقع پر فوری اثر کرنے والی دواؤں میں بیلا ڈونا بھی ایک ہے۔اگر صحیح دوا جلد نہ دی جائے تو ایسی حالت میں بچے مر بھی جاتے ہیں۔اگر مریض کو شدید چکر آئیں اور ہیجانی کیفیت ہو تو بیلا ڈونا فوری آرام دے گی۔فاسفورس میں بھی یہ علامت ہے۔سردرد ہو تو سر کی جلد دکھنے لگتی ہے، کنگھی کرنا یا ہاتھ لگانا تکلیف دہ ہوتا ہے۔سر کی جلد کی زود حسی بیپر سلف میں بھی پائی جاتی ہے اور یہ علامت اتنی زیادہ نمایاں ہے کہ بعض عورتیں اس کے اثر سے بے ہوش ہو جاتی ہیں۔خیالات کے ہجوم اور ہیجانی کیفیت کی وجہ سے نیند اڑ جائے تو بیلاڈونا ، کافیا اور فاسفورس سب مفید ہیں۔اعصابی ہیجان کی وجہ سے نیند اڑ جائے تو ذرا سے شور یا بستر کو ٹھوکر لگنے سے سخت اذیت پہنچتی ہے اور مرض میں ایک دم اضافہ ہو جاتا ہے۔نکس وامی کا میں بھی شور سے تکلیف بڑھتی ہے۔چونکہ نکس وامیکا میں بیلا ڈونا کا عصر بھی پایا جاتا ہے۔اس لئے نکس وامیکا کی کئی علامتیں بیلاڈونا سے ملتی ہیں۔بعض مریض بہت آہستہ رد عمل دکھاتے ہیں۔ان کو وہی دوائیں موافق آتی ہیں جو آہستہ آہستہ اثر کرنے والی ہوں لیکن اس کے برعکس بعض مریضوں کی تکلیفیں تیزی سے بڑھتی ہیں اور وہی دوائیں ان کے لئے مفید ہوتی ہیں جن میں تیزی سے بیماریاں بڑھنے کا رجحان ملتا ہے۔بعض مریضوں کے ردعمل کی حس بہت تیز ہوتی ہے۔ہومیو دوائیں