ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 133

بیلاڈونا 133 33 بیلاڈونا BELLADONNA (Deadly Night Shade) بیلاڈونا کا پودا اکثر یورپ کے گھنے اور سایہ دار علاقوں میں اگتا ہے۔جولائی کے مہینہ میں اس کے پھول نکلتے ہیں اور ستمبر میں سرخ رنگ کا پھل لگتا ہے۔بیلا ڈونا بہت زہریلا پودا ہے۔جڑی بوٹیوں کے ماہرین اسے مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اس کی مرہم بنا کر زخموں پر لگائی جاتی ہے۔جب پھولوں کا موسم اپنے جو بن پر ہوتا ہے تو اس سارے پودے سے عرق نکال کر ہو میو پیتھی دوا تیار کی جاتی ہے۔بیلا ڈونا دوران خون پر اثر انداز ہونے والی دوا ہے۔دل، پھیپھڑے، دماغ اور اعصابی نظام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ایکونائٹ کی طرح بیماری کا اچانک حملہ بیلا ڈونا کی بھی خاص علامت ہے لیکن بیلاڈونا ایکونائٹ کے مقابل پر زیادہ لمبا اثر رکھنے والی دوا ہے۔بیلا ڈونا کی نمایاں خاصیت سوزش ہے جس سے خصوصاً دماغ، پھیپھڑے، جگر اور انتڑیاں متاثر ہوتے ہیں۔بیلا ڈونا کی علامات رکھنے والی بیماریوں میں اچانک پن تو بالکل ایکونائٹ کی طرح ہی ہے لیکن اس میں کوئی خاص خوف نہیں پایا جا تا۔مریض دبے لفظوں میں تکلیف کا اظہار کرتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے، زیادہ بولنا پسند نہیں کرتا سوائے اس کے کہ رات کو ڈراؤنی خوابیں آنے لگیں تو شور مچا کر اٹھ جاتا ہے ورنہ عام طور پر چادر لے کر الگ تھلگ پڑا رہنے والا مریض ہے۔قدموں کی ہلکی سی چاپ یا روشنی دردوں کو بڑھا دیتی ہے، جلد بہت حساس ہو جاتی ہے اور درد کے مقام پر ذرا سا کپڑا لگنا بھی نا قابل برداشت ہو جاتا ہے۔ماؤف حصہ میں سرخی نمایاں ہوتی ہے، شدید جلن کا احساس ہوتا ہے ،خون کا دباؤ