ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 127
برائیٹا کارب 127 گلینڈز ہوں ، خصوصاً گلے کے اوپر والے حصہ میں وہاں مستقل سوجن ہو جاتی ہے۔ہر دفعہ بیماری کا حملہ اس سوجن میں اضافہ کر دیتا ہے۔اسی طرح جسم پر چربی کے ٹیومر بن جاتے ہیں۔پیٹھ اور جسم کے دیگر حصوں پر موٹی موٹی گلٹیاں نظر آئیں گی۔بعض لوگوں کے جسم پر بہت بھدے چھوٹے چھوٹے گول ابھار بن جاتے ہیں لیکن ان کا برائیٹا کا رب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ان کے لئے مزاج کو پرکھ کر زیادہ گہری تلاش کرنی پڑتی ہے۔برائیٹا کا رب میں جو گلینڈ ایک دفعہ موٹا ہو جائے وہ کم نہیں ہوتا۔باقی جسم سوکھ بھی جائے تو سوجی ہوئی گلٹیاں یا بڑھا ہوا پیٹ کم نہیں ہوں گے۔ایسی صورت میں بار بار برا ئیٹا کا رب اونچی طاقت میں دینی پڑتی ہے۔برائیٹا کا رب لمبے عرصہ تک مسلسل دی جاسکتی ہے۔برائیٹا کا رب اوپر کے بلڈ پریشر (Systolic) میں مفید ہوتی ہے لیکن نچلے بلڈ پریشر (Diasystolic) پر اثر انداز نہیں ہوتی۔جو مریض لمبے عرصہ تک برائیٹا کا رب استعمال کرے اس کا بلڈ پریشر متواتر چیک کرتے رہنا چاہئے کہ کہیں او پر کا بلڈ پریشر زیادہ تو نہیں گر گیا۔اگر اوپر کا بلڈ پریشر زیادہ گر چکا ہو تو کچھ عرصہ تک برائیٹا کا رب روک کر حسب ضرورت دوبارہ استعمال کی جاسکتی ہے۔آرٹیمر یوسکلر وسس (Arteriosclerosis) یعنی ذہن کی شریانوں کے سکڑ جانے سے جو تکلیفیں پیدا ہوتی ہیں ان کے علاج کے طور پر برائیٹا کا رب ایک نہایت اہم دوا ہے۔اسی طرح ایسے مریض کو مستقلاً کریٹیکس (Crataegus) دینا بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔لیکن یا درکھیں کہ آرٹیر یوسکلر وسس کا مریض بہت آہستہ آہستہ بنتا ہے یعنی بیماری سال ہا سال میں اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے اور دور بھی آہستہ آہستہ ہی ہوتی ہے۔پس یہ امید نہ رکھی جائے کہ ادھر برائیٹا کا رب دی اور ادھر مریض دو چار مہینے کے اندر بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔کم سے کم ایک سال یا دو سال تک اسے صبر کے ساتھ استعمال کروانا چاہئے۔اس پہلو سے یہ اکثر بوڑھوں کی بہترین دوست ثابت ہوتی ہے اور فی الحقیقت یہ ارذل العمر کی دوا ہے۔پس یا بچوں میں اس کی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے یا بہت