ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xiii of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xiii

دیباچه 1 بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ دیباچہ ہومیو پیتھی میں میری دلچسپی کے اسباب کی داستان دلچسپ ہے۔ہندوستان کی تقسیم کے بعد پاکستان بننے کے ابتدائی سالوں کی بات ہے کہ مجھے بار بار سر درد کے دورے پڑا کرتے تھے جسے انگریزی میں میگرین (Migraine) اور اردو میں در دشقیقہ کہتے ہیں۔یہ بہت شدید درد ہوتا ہے جس کے ساتھ متلی، قے اور اعصابی بے چینی بہت ہوتی ہے۔میں کئی کئی دن اس بیماری میں مبتلا رہتا تھا۔علاج کے طور پر اسپرین استعمال کرتا جس کی وجہ سے معدہ کی جھلی اور گردوں پر برا اثر پڑتا اور دل کی دھڑکن بھی تیز ہو جاتی۔میرے والد مرحوم ایک ایلو پیتھک دوا سینڈول (Sandol) اپنے پاس رکھا کرتے تھے جس کی انہیں خود بھی ضرورت پڑتی تھی۔برصغیر کی تقسیم کے بعد یہ دوا پاکستان میں نہیں ملتی تھی بلکہ کلکتہ سے منگوانی پڑتی تھی۔اس سے مجھے جلد آرام آجاتا۔ایک دفعہ جب مجھے سر درد کی شدید تکلیف ہوئی تو ابا جان مرحوم کے پاس سینڈول موجود نہ تھی اس لئے آپ نے اس کی بجائے کوئی ہو میو پیتھک دوائی بھجوا دی۔مجھے اس وقت ہومیو پیتھی پر کوئی یقین نہیں تھا لیکن تبر کا میں نے یہ دوا کھالی۔مجھے اچانک احساس ہوا کہ درد بالکل ختم ہو گیا ہے اور میں بے وجہ آنکھیں بند کئے لیٹا ہوں۔اس سے پہلے کبھی کسی دوا کا مجھ پر ایسا غیر معمولی اور اتنا تیز اثر نہیں ہوا تھا۔