حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 700
650 دس ہزار میل کے فاصلہ پر ہے اور یہ مشرق کی طرف سے انڈونیشیا سے آنے والے ہیں۔آسٹریلیا میں بھی آواز پہنچی اور وہاں احمدی ہوئے اور افریقہ کا براعظم جس کو دنیا نے اندھیرا اور ظلماتی براعظم کہا تھا اس افریقہ کے براعظم کے دل میں خدا تعالیٰ نے نور پیدا کر دیا اور یورپ جو بے راہ روی کا مرکز بن چکا تھا اس میں سے یہ پیارے وجود پیدا ہو رہے ہیں۔کتابوں میں سے یہ الہام مٹایا جا سکتا ہے کہ سکتا میں تیری تبلیغ کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا" کیونکہ وہ سیاہی سے لکھا ہوا ہے اور دیواروں پر سے بھی مٹایا جا ہے لیکن اس کرہ ارض کے چہرہ سے یہ نہیں مٹایا جا سکتا کیونکہ اس کے او پر اسے ان انسانوں نے تحریر کیا ہے۔لیکن میں پھر اپنی حقیقت کی طرف آتا ہوں۔ایک سیکنڈ کے لئے بھی تمہارے اندر کبر اور غرور پیدا نہ ہو۔تمہارے سر عاجزی سے ہمیشہ خدا تعالیٰ کے آستانہ پر جھکے رہیں۔تمہارے سر اس سے زیادہ جھکنے چاہئیں جتنا کہ اس جذبہ کے وقت محمد ملی کا سر جھک جایا کرتا تھا مگر اس سے زیادہ ممکن نہیں ہے کیونکہ حدیث میں آتا ہے۔دیکھنے والوں نے دیکھا اور بیان کرنے والوں نے بیان کیا کہ ایک موقع پر جبکہ آپ م سوار تھے۔خدا تعالیٰ کی نعمتوں اور رحمتوں کی یاد میں اور اس کی حمد کے گیت گاتے ہوئے آپ کا سر جھکنا شروع ہوا اور جھکتا چلا گیا یہاں تک کہ آپ کی پیشانی کاٹھی کے ساتھ لگ گئی۔اب اس سے زیادہ آپ" کیسے جھک سکتے تھے لیکن خدا کے پیار میں اور خدا کی حمد میں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے جہاں تک وہ سر جھک گیا تھا اگر اس سے زیادہ نیچے جھکنا تمہارے لئے ممکن نہیں تو اس حد تک جھکنا تو تمہارے لئے ممکن ہے اور بڑی ہی بے غیرت ہو گی وہ پیشانی جو اس کے بعد اپنا سر اٹھائے۔پس جو عاجزی کا مقام تمہیں عطا ہوا ہے (اور یہ بڑا زبردست