حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 49 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 49

49 لگا کر آؤ اور دیکھو کہ کسی مہمان کو تکلیف تو نہیں۔کسی کو کوئی ضرورت تو نہیں۔اس دن حضرت میر صاحب نے معاونین میں چائے کروائی تھی۔جلسہ کے دنوں میں ایک یا دو دفعہ رات کو دس بجے کے قریب چائے تقسیم کی جاتی تھی۔اس چائے میں دودھ اور میٹھا سب کچھ ملا ہوا ہو تا تھا اور نیم کشمیری اور نیم پنجابی قسم کی چائے ہوتی تھی۔میں وہاں جا کر کمروں میں پھر رہا تھا۔دوستوں سے مل رہا تھا اور ان سے ان کے حالات دریافت کر رہا تھا۔ایک کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا میں نے دیکھا کہ ہمارا ایک رضاکار جو چھوٹی عمر کا تھا آب خورے میں چائے لے کر باہر سے آیا۔کمرے میں ایک مہمان کو بخار چڑھ گیا تھا۔اس نے یہ سمجھا کہ یہ رضاکار میرے لئے گرم چائے اور دوائی وغیرہ لے کر آیا ہے۔مجھ سے چند سیکنڈ ہی قبل وہ دروازہ میں داخل ہوا تھا اس مہمان نے غلط فہمی میں (کیونکہ ہمارے احمدی مہمان بھی بڑی عزت والے ہوتے ہیں اس مہمان کو اس شام کو بخار چڑھ گیا تھا اور بڑا تیز بخار تھا اس کو غلط فہمی ہو گئی) اپنے ہاتھ آگے بڑھائے اور کہا تم میرے لئے گرم چائے لائے ہو۔تم بڑے اچھے اور جیسے بچے ہو (اس قسم کا کوئی فقرہ اس نے کہا) اب یہ اس بچہ کے لئے انتہائی امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔اگر اس بچے کے چہرے پر ایسے آثار پیدا ہو جاتے جن سے معلوم ہوتا کہ یہ اس کے لئے چائے نہیں لایا بلکہ اپنے لئے لایا ہے تو اس مہمان نے کبھی چائے نہیں لینی تھی۔میں باہر کھڑا ہو گیا اور خیال کیا کہ اگر میں اندر آگیا تو نظارہ بدل جائے گا۔میں نے چاہا کہ دیکھوں یہ کیا کرتا ہے۔اس رضا کار نے نہایت بشاشت کے ساتھ اور اصل حقیقت کا ذرا بھر اظہار کئے بغیر اس کو کہا۔ہاں تم بیمار ہو۔ہو۔میں تمہارے لئے چائے لے کر آیا ہوں اور اگر کوئی دوائی لینا چاہتے ہو تو لے آؤں۔اب یہ خدمت ایسی تو نہیں کہ ہم کہیں کہ ہمالیہ کی چوٹی سر