حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 573 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 573

522 تیار کر لیا گیا۔اور ۱۹۸۰ء کے جلسہ سالانہ پر پہلی مرتبہ یہ آلات نصب کر کے دو زبانوں میں تراجم سنوانے کا بندوبست کیا گیا جن میں سال بہ سال اضافے کی گنجائش رکھی گئی۔چنانچه جلسه ۱۹۸۰ء پر زنانہ اور مردانہ دونوں جلسہ گاہوں میں انگلش اور انڈونیشین تراجم سنوائے گئے اور یہ سلسلہ بعد میں بھی اضافے کے ساتھ جاری ہے۔ترجمانی کے نظام کے لئے آلات کے ڈیزائن کا کام تو انجینئروں نے رضا کارانہ طور پر کیا۔لیکن آلات کی قیمت کے لئے ایک لاکھ روپے کا ابتدائی سرمایہ فضل عمر فاؤنڈیشن نے فراہم کیا۔اس کام کے لئے ابتدائی ٹیم مندرجہ ذیل انجینئرز پر مشتمل تھی۔مکرم منیر احمد صاحب فرخ بی ایس سی الیکٹریکل انجینئرنگ مکرم لال خان صاحب بی ایس سی سول انجینئرنگ مکرم ایوب احمد ظہیر صاحب بی ایس سی مکینیکل انجینئرنگ مکرم محمود مجیب اصغر صاحب بی ایس سی سول انجینئرنگ مکرم مبشر احمد گوندل صاحب بی ٹیک اس نظام کے پہلی دفعہ نصب ہونے پر الفضل ربوہ نے ۲۹ دسمبر ۱۹۸۰ء کی اشاعت میں پندرھویں صدی کے پہلے جلسہ سالانہ پر خدائی انعامات کا ایک اور مظہر۔دو سو بائیس (۲۲۲) احباب و خواتین کو تقاریر کے تراجم سنائے گئے۔انڈونیشی اور انگریزی زبان میں ساتھ کے ساتھ ترجمہ کیا گیا" کی شہ سرخی جما کر لکھا۔ربوہ ۲۹ فتح / دسمبر۔پندرھویں صدی ہجری کے پہلے جلسہ سالانہ کے وقع پر جماعت احمدیہ کی عالمگیر وسعت اور دنیا کے کونے کونے میں خدائی تائید و نصرت کے درخشندہ نشانوں کا ایک اظہار اس طرح سے ہوا ہے کہ جماعت کی تاریخ میں پہلی بار بیرون پاکستان سے آئے ہوئے معزز مہمانوں کے لئے دو زبانوں میں تقاریر کے ترجمے کا بندوبست نہایت کامیابی اور خیر و خوبی سے جاری ہوا ہے الحمد للہ ثم الحمد للہ اس جلسہ سالانہ پر کل ۲۲۲ - افراد و خواتین کے لئے انگریزی اور انڈونیشین زبان میں ترجمہ کا بندوبست کیا گیا ہے۔۔۔اس مقصد کے لئے