حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 518 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 518

465 العالمین سمجھا گیا۔میں کبھی کا اس غم میں فنا ہو جاتا اگر میرا موٹی اور میرا قادر توانا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے، غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنے خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے، مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔خدائے قادر فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عینی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کر دوں۔سو اب دونوں مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہو گی اور نیا آسمان ہو گا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت کے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی جربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کند ہو گا جب تک و جالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی کچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے۔اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی تمام تدبیروں کو باطل کر دے گا، لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے اور پاک دلوں پر ایک نور اتارنے سے۔تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی ؟ اس ان زبر دست پیشگوئیوں کے بعد تو دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔افریقہ کا وسیع براعظم عیسائیت کے جھنڈے تلے جمع ہونے کی بجائے اسلام کے خنک اور سرور بخش سایہ تلے