حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 491
436 حاشیہ جات باب ہفتم ا۔محترم عبد السلام صاحب سابق باڈی گارڈ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث " بیان کرتے ہیں کہ خلیفہ بننے کے بعد ایک روز حضور کہنے لگے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے پوچھتا تو میں نے کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری میری P طاقت سے زیادہ ہے مگر اس نے بغیر پوچھے مجھے پر یہ ذمہ داریاں ڈال دی۔۲۔فرمایا بیعت کا وقت نہایت سنجیدگی کا وقت ہوتا ہے یہ تو نئی پیدائش کا وقت ہوتا ہے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۳۲۰ هش ۱۹۴۱ء ص ۱۸) ۳۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود میں نیند کی وفات کے موقع پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے فرمایا تھا " جماعت احمدیہ کے لئے یہ تیسرا زلزلہ ہے جو بوجہ کثرت جماعت اور قلت صحابہ کے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا چہرہ دیکھا اور صحبت اٹھائی تھی، بہت بڑا ہے کیونکہ جب زمانہ گزرتا ہے الہی سلسلہ پھیل جاتا ہے تو بعض کمزوریاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں اور اس وقت تو ہر وقت کے ناصح خلیفہ کی لمبی علالت بھی بعض غفلتوں اور کمزوریوں کو کمزور طبائع میں پیدا کرنے کی وجہ بن گئی" روزنامه الفضل ربوه ۱۰ نومبر ۱۹۶۵ء) ۴۔پہلے یہ الہام حضرت مسیح موعود کو ہوا تھا اور کئی سالوں کے بعد حضرت مسیح موعود کے تیرے خلیفہ کو ہوا۔۵۷۔حضرت مسیح موعود کا خلیفہ ہونے کے باعث حضور نے اپنے آقا کے اس رویا کو پورا کیا ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان کرتے ہوئے فرمایا۔" آج رات میں نے رسول کریم ملی ویال لول کو خواب میں دیکھا۔آپ مجھ کو بارگاہ ایزدی میں لے گئے اور وہاں سے مجھے ایک چیز ملی جس کے متعلق ارشاد ہوا کہ یہ ( تذکره طبع سوئم ص ۸۱۸) سارے جہاں میں تقسیم کر دو۔اے خدا سینکڑوں رحمتیں نازل کر اس شخص پر جو ناصر دین یعنی دین کی امداد کرنے والا ہے اور اگر وہ کبھی مشکل میں پھنس جائے تو تو اپنے فضل سے اس کی مشکل کو دور کرنا۔کھلاے۔یہ جگہ حضور نے خود چھ ماہ قبل منصورہ بیگم صاحبہ کی تدفین کے موقع پر رکھوائی تھی۔حوالہ جات باب ہفتم ا خطبہ جمعہ فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ۲۵ اگست ۱۹۷۸ء بمقام لندن بحواله روزنامه الفضل ربود حضرت خلیفة المسیح الثالث نمبر ۱۲ مارچ ۱۹۸۳ء ص ۷ تا ۹ ۲ تاریخ احمدیت جلد دہم ص ۵۲۰