حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 32
32 رض دی گئی۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں۔ایک دن حضرت اماں جان کے پاس محمد احمد۔منصور اور ناصر احمد تینوں بیٹھے تھے۔میں بھی تھی۔بچوں نے بات کی۔شاید حساب یا انگریزی ناصر احمد کو نہیں آتا ہمیں زیادہ آتا ہے۔اتنے میں حضرت بھائی صاحب (حضرت مصلح موعود ( تشریف لائے۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ میاں! قرآن شریف تو ضرور حفظ کرواؤ مگر دوسری پڑھائی کا بھی انتظام ساتھ ساتھ ہو جائے کہیں ناصر دوسرے بچوں سے پیچھے نہ ، جائے مجھے یہ فکر ہے۔ره اس پر جس طرح آپ مسکرائے تھے اور جو جواب آپ نے حضرت اماں جان کو دیا تھا وہ آج تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔فرمایا۔اماں جان! آپ اس کا بالکل فکر نہ کریں۔ایک دن یہ سب سے آگے ہو گا انشاء اللہ تعالیٰ ال قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد آپ پہلے پرائیویٹ طور پر حضرت مسیح موعود کے ایک رفیق حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب سے عربی اور اردو وغیرہ پڑھتے رہے اور اس کے بعد دینی علوم کی تحصیل کے لئے آپ کو مدرسہ احمدیہ داخل کروایا گیا۔مدرسہ احمدیہ کی تعلیم مکمل کر کے آپ کو جامعہ احمدیہ میں داخل کروایا گیا جہاں سے آپ نے اعلیٰ نمبروں پر مولوی فاضل پاس کیا۔مولوی فاضل کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لیتی تھی۔چنانچہ جولائی ۱۹۲۹ء میں آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ”مولوی فاضل" کی ڈگری حاصل کی۔مولوی فاضل کے امتحان میں آپ نے پنجاب بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔اس وقت آپ کی عمر بیس سال کی تھی۔۲۔جامعہ احمدیہ میں آپ کو جن اساتذہ نے پڑھایا ان میں حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل اور حضرت میر محمد اسحاق صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت مسیح موعود کا بڑا ہوتا اور حضرت مصلح موعود " کا له