حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 475
420 خط کی اطلاع تھی) اس کا خیال رکھو۔خیر انہوں نے گھیرا کیا اس کا۔اس سے پوچھا۔اس نے اپنا نام بتایا کہ ہاں میں ہی ہوں وہ۔انہوں نے اپنی حکومت کو اطلاع دی۔پولیس نے اس کو پکڑ کے پوچھا کہ تم نے جو اطلاع دی ہے تین قتل اور ایک اغوا کی کوشش کی۔اس کا مطلب ہے کہ جنہوں نے منصوبہ بنایا ہے تم بھی ان میں سے ایک ہو، ورنہ تمہیں پتہ کیسے لگ گیا۔اس نے کہا نہیں نہیں۔اپنی طرف سے بڑا ہو شیار بنتا تھا) بات یہ نہیں ہے۔بات یہ ہے کہ مجھے علم نجوم میں بڑا شغف ہے اور ستاروں نے بتایا تھا کہ یہ واقعہ ہو گا۔انہوں نے کہا ستاروں نے جو بتایا تھا یا نہیں بتایا تھا پر ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ کینیڈا میں جس جگہ حضرت صاحب ہوں اگر اس جگہ سے ۴۰ میل کے اندر اندر بھی تم نظر آگئے تو تمہاری بوٹیاں ستاروں کو نظر نہیں آئیں گی۔اس واسطے چلے جاؤ یہاں سے۔اور اس کو اپنی فراست سے پہچاننے والی اور اس طرح حفاظت کرنے والی۔اس قسم کے احسان بھی ہیں ان کے مجھ پر۔پھر ایک وقت آیا کہ نئی ذمہ داریاں پڑ گئیں۔ان نئی ذمہ داریوں کے علاوہ بھی تو انسان کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔مثلاً کھانا کھانا۔مثلا نبی کریم میں السلام نے فرمایا وَ لِنَفْسِكَ عَلِيْكَ حَقٌّ اپنے نفس کے حقوق ادا کرنے ہیں۔تو اگر بیوی ساتھ نہ دے۔۔۔۔تو اوقات بٹ جائیں دو حصوں میں۔ایک حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اور ایک اپنے نفس کے حقوق کی ادائیگی میں۔بغیر بات کئے ساری ذمہ داریاں جو میرے نفس کی تھیں وہ آپ سنبھال لیں ، اس حد تک کہ بعض Vitamins وغیرہ ہم نے کچھ عرصہ سے شروع کی ہوئی تھیں خود نکال کے دیتی تھیں۔کبھی میں خود نکالنے کی کوشش کروں تو ناراض ہو جاتی تھیں کہ یہ میرا کام ہے کیوں کیا آپ نے۔مطلب یہ تھا کہ یہ دو منٹ بھی اس کام پر خرچ کیوں کئے جو دوسرے اہم جماعتی کام ہیں ان پر خرچ کریں۔اور مجھے ہر قسم کی ذاتی فکروں سے آزاد کر کے سارے اوقات کو آپ احباب کی فکروں میں لگانے کے لئے موقعہ میسر کر دیا۔اور اس وجہ سے میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بیان کر رہا ہوں کہ ان کا یہ حق ہے کہ ہم ان کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل اور رحمتیں ان پر نازل ہوں۔۔۔۔اللہ تعالیٰ جتنا زیادہ سے زیادہ پیار دے سکتا ہے، وہ ان کو دے۔۔