حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 464
409 ۱۹۷۰ء میں حضور” نے سپین کا دورہ کیا اور پوری کوشش کے باوجود حکومت کی طرف سے ایک ویران مسجد نماز پڑھنے کے لئے چند سالوں کے لئے بھی نہ مل سکی، اور دس سالوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ انقلاب پیدا کیا کہ قرطبہ کے قریب پید رو آباد میں تیرہ کنال سے زائد زمین خرید کر حکومت کی طرف سے مسجد بنانے کی اجازت دے دی گئی جس کی اللہ تعالٰی نے حضور کو دس سال قبل الہام الہی کے ذریعے خبر دے دی تھی۔اس سال حضور نے تین پراعظموں یورپ ، امریکہ۔اور افریقہ کے تیرہ ممالک کا عطر دورہ کیا اور محبت کا سفیر بن کر زمین کی انتہائی آبادی تک پہنچ کر دعوت الی اللہ کا فریضہ ادا کیا اور اسی دورہ کے آخر میں مسجد بشارت سپین کا سنگ بنیاد رکھا اور اسلام کی نشاۃ اولی کی یاد تازہ کر دی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے بارہ میں تحریر فرمایا تھا۔کہ " وہ دعوت اسلام کے لئے ممالک شرقیہ اور غربیہ تک پہنچے اور ملت محمدیہ کی اشاعت کے لئے بلاد جنوبیہ اور شمالیہ کی طرف انہوں نے سفر کیا۔زمین کی انتہائی آبادی تک زمین پر قدم مارتے ہوئے پہنچے۔" JA حضور کا ساتواں اور آخری غیر ملکی دورہ تھا جس میں حضور نے مغربی جرمنی سوئٹزر لینڈ، آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، ہالینڈ پین، نائیجیریا، غانا، کینیڈا ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور انگلستان میں پہنچ کر نہ صرف افراد جماعت میں بیداری پیدا کی بلکہ غلبہ اسلام کے کام میں غیر معمولی وسعت پیدا فرمائی اور غلبہ اسلام کے منصوبے بنائے۔اس دورہ کے دوران حضور نے انگلستان میں پانچ نئے مشنوں کا افتتاح فرمایا جو ہڈرزفیلڈ مانچسٹر، بریڈ فورڈ ساؤتھ آل اور برمنگھم میں واقع ہیں۔حضور نے ناروے میں اوسلو کے مقام پر ایک تین منزلہ شاندار عمارت کا جو مسجد اور مشن ہاؤس کے طور پر استعمال کرنے کے لئے خریدی گئی تھی افتتاح فرمایا۔حضور نے نائیجیریا کے مختلف علاقوں میں بننے والی تین بڑی مسجدوں کا بھی افتتاح فرمایا۔