حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 392
361 تو اس ذات پر ہے کہ جس نے دنیا کی ہر چیز کو اپنے اندر سمیٹا ہوا ہے اور اس کا احاطہ کیا ہوا ہے۔کل شام کو اس مجلس انتخاب نے خاکسار کو منتخب کیا ہے اور خدا شاہد ہے کہ آج صبح بھی میری حالت ایسی تھی جیسے اس شخص کی ہوتی ہے کہ جس کا کوئی عزیز فوت ہو جائے تو اس کو یقین نہیں آتا کہ اس کا وہ عزیز اس سے جدا ہو چکا ہے مجھے بھی یقین نہیں آتا میں سمجھتا ہوں کہ شائد میں خواب دیکھ رہا ہوں، یہ کیا ہوا۔۔۔۔جس کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے ڈھال بنایا تھا اس ڈھال کو اس نے ہم سے لے لیا اور اس نے مجھے آگے کر دیا۔میں بہت ہی کمزور ہوں بلکہ کچھ بھی نہیں۔شاید مٹی کے ایک ڈھیلے میں مدافعت کی قوت مجھ سے زیادہ ہو ، مجھ میں تو وہ بھی نہیں۔لیکن جب سے ہمیں ہوش آئی ہے ہم یہی سنتے آئے ہیں کہ خلیفہ خدا بناتا ہے۔اگر یہ سچ ہے اور یقیناً یہ سچ ہے تو پھر نہ مجھے گھبرانے کی ضرورت ہے اور نہ آپ میں سے کسی کو گھبرانے کی ضرورت ہے۔جس نے یہ کام کرنا ہے وہ یہ کام ضرور کرے گا۔اور یہ کام ہو کر رہے گا لیکن کچھ ذمہ داریاں مجھ پر عائد ہوتی ہیں اور کچھ ذمہ داریاں آپ پر ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر آپ لوگوں کو گواہ ٹھراتا ہوں اس بات پر کہ جہاں تک اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھ دی ہے، جہاں تک اس نے مجھے توفیق عطا کی ہے جہاں تک اس نے مجھے طاقت دی ہے ، آپ مجھے اپنا ہمد رد پائیں گے۔میں ہر لمحہ اور ہر لحظہ دعاؤں کے ساتھ اور اگر کوئی اور وسیلہ بھی مجھے حاصل ہو تو اس وسیلہ کے ساتھ مددگار ہوں گا اور میں اپنے رب سے یہ امید رکھتا ہوں کہ وہ آپ کو بھی یہ توفیق دے گا کہ آپ صبح و شام اور رات اور دن اپنی دعاؤں سے اپنے اچھے مشوروں سے اپنی ہمدردیوں سے اور اپنی کوششوں سے میری اس کام میں مدد کریں گے خدا تعالیٰ کی توحید دنیا میں قائم ہو اور محمد رسول اللہ علی اسلام کا جھنڈا