حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 391 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 391

360 بلکہ اپنی زندگی کا پیام لے کر آتا ہے اور اللہ تعالی قیادت کا انتقال ایک کندھے سے دوسرے کندھے کی طرف اس لئے نہیں کرتا کہ اس کا ایک بندہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا اور وہ اس کو طاقت ور جوان رکھنے پر قادر نہیں کیونکہ ہمارا پیارا مولیٰ ہر شے پر قادر ہے بلکہ اس لئے کہ وہ دنیا پر ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ہر نگاہ میری طرف ہی اٹھنی چاہئے، بندہ بڑا ہو یا چھوٹا آخر بندہ ہی ہوتا ہے۔تمام فیوض کا منبع اور تمام برکات کا حقیقی سرچشمہ میری ہی ذات ہے۔یہ توحید کا سبق دلوں میں بٹھانے کے لئے وہ اپنے ایک بندے کو اپنے پاس بلا لیتا ہے اور ایک دوسرے بندہ کو جو دنیا کی نگاہوں میں انتہائی طور پر کمزور اور ذلیل اور نااہل ہوتا ہے۔کہتا ہے کہ اٹھ اور میرا کام سنبھال۔اپنی کمزوریوں کی طرف نہ دیکھے اپنی کم علمی اور جہالت کو نظر انداز کر دے، ہاں میری طرف دیکھ کہ میں تمام طاقتوں کا مالک ہوں، میرے سے یہ امید رکھ ، اور مجھ پر ہی توکل کر کہ تمام علوم کے سوتے مجھ سے ہی پھوٹتے ہیں۔میں وہ ہوں جس نے تیرے آقا کو ایک ہی رات میں چالیس ہزار کے قریب عربی مصادر سکھا دیے تھے اور میری طاقتوں میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔میں وہ ہوں جس نے نہایت نازک حالت میں سے اسلام کو اٹھایا تھا اور جب انسان نے اپنی تلوار سے اسے مٹانا چاہا تو میں اس وار اور اسلام کے درمیان حائل ہو گیا۔اس وقت دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں موجود تھیں لیکن دنیا کی کوئی طاقت خواہ کتنی ہی بڑی تھی اسلام کو نہ مٹا سکی۔ہمارا ہے کہ آج پھر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں دنیا میں اسلام کو غالب کروں گا اور اسلام دنیا پر غالب ہو کر رہے گا اور ان کمزور ہاتھوں کے ذریعہ سے غالب ہو کر رہے گا۔ہم اپنی کمزوریوں کو کیا دیکھیں۔ہماری نظر تو اس ہاتھ پر ہے جو ہمیں اپنے کمزور ہاتھوں کے پیچھے جنبش کرتا نظر آتا ہے۔ہم اپنی کم طاقتی کا خیال کیوں کریں کیونکہ ہمارا تو کل کہتا