حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 355
340 موصوف ہی جماعتوں سے تین نمائندے خود منتخب فرما لیں۔اس بورڈ کا یہ بھی فرض ہو کہ وہ صدر انجمن احمدیہ اور مجلس تحریک جدید اور مجلس 246 وقف جدید میں رابطہ رکھے۔۶۷۴؎ بعد از بحث شوری کے ممبران نے سفارش کی کہ نگران بورڈ کی تشکیل کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی سے منظوری حاصل کی جائے چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے نگران بورڈ کے قیام کو منظور فرمایا اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر صدر انجمن احمد یہ ہونے کی حیثیت سے اس کے ممبر مقرر ہوئے آپ ۱۹۶۵ء تک نگران بورڈ کے ممبر رہے۔چنانچہ ۱۹۶۳ء کی مشاورت پر صدر صاحب مجلس نے فرمایا:۔نگران بورڈ جو مشاورت کے فیصلے کے نتیجہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری کے ساتھ دو سال ہوئے قائم ہوا تھا۔اس کا کام صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید اور وقف جدید کے مختلف صیغہ جات کا معائنہ اور نگرانی کرنا اور حسب ضرورت اصلاحی ہدایات جاری کرنا ہے۔۶۸؎ خلیفہ وقت کی لمبی بیماری کے دوران نگران بورڈ کی ذمہ داری بہت نازک تھی۔آپ نے اس ذمہ داری کو بھی نہایت احسن رنگ میں نبھایا۔۱۹۶۴ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وفات کے بعد حضرت مرزا عبد الحق صاحب نگران بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔یہ بورڈ حضرت مصلح موعود کے وصال تک قائم رہا حتی کہ اللہ تعالی کی غالب تقدیر کے تحت آپ خلافت کے اعلیٰ منصب پر فائز ہو گئے۔