حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 350
335 مختلف حکمت تھی۔۱۹۲۴ء کا زمانہ جس میں میری والدہ محترمہ امتہ الحی صاحبہ کی وفات ہوئی ، گو دن کے آخری لمحات کے کچھ حصے میرے ذہن نے محفوظ رکھے ہوئے ہیں لیکن زیادہ علم نہیں ہے، اس وقت اور اس کے چند سال بعد جس وقت ہم مدرسہ احمدیہ میں پڑھا کرتے تھے (ہم سے مراد میرے دوست اور ساتھی ہیں) یعنی ۲۸۔۱۹۲۷ء میں قادیان کا جو ماحول تھا اور اس کے جو حالات تھے جنہیں ایک بچہ ذہن نے یاد رکھا ہے وہ آج کے حالات سے کم از کم ایک ہزار گنا ہیں۔پھر خلافت جو بلی آئی۔وہ بھی دراصل جماعت کا ایک موڑ تھا کیونکہ ۱۹۳۹ء کے جلسہ سالانہ پر یک دم پندرہ ہزار افراد کی زیادتی ہو گئی۔مجھے وہ جلسے بھی یاد ہیں جن میں سارے جلسہ کے مهمان جو کھانا کھانے والے تھے ان کی تعداد بارہ تیرہ ہزار ہوا کرتی تھی مگر اب خدا کے فضل سے کھانا کھانے والوں کی تعداد ستر ہزار تک اور مہمانوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اب کچھ مہمان باہر بھی کھانا کھاتے ہیں لیکن اس زمانہ میں قریباً سارے مہمان لنگر کا کھانا کھایا کرتے تھے۔پس اس وقت مہمانوں کی وہ صحیح تعداد سمجھی جائے گی جو کھانے کی پرچی کے لحاظ سے تھی اور مہمانوں کی صحیح تعداد آج وہ نہیں جو آج کھانے کی پرچی ہے۔اس وقت بارہ تیرہ ہزار کی تعداد میں مہمان ہوتے تھے آج کل کا ہیں سالہ جوان کہے گا بھلا بارہ تیرہ ہزار کو کھانا کھلانا یہ بھی کوئی انتظام ہے؟ اور اس وقت خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور میرے ذہن نے یاد رکھا کہ بعض دفعہ رات کے گیارہ بج جاتے تھے اور ہم مہمانوں کو کھانا کھلانے کے قابل نہیں ہوتے تھے مگر انتظام آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے۔انسان کو درجہ بدرجہ تجربہ حاصل ہوتا ہے۔وہ ارتقائی ادوار میں سے گزر کر ہی انتظامیہ میں کسی واضح لائحہ عمل کو اختیار کر پاتا