حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 338
323 انہوں نے فون پر نظارت اصلاح و ارشاد سے اجازت حاصل کی۔چنانچہ دو تین گھنٹے بعد مکرم ناظر صاحب اصلاح و ارشاد نے مجھے طلب فرمایا اور صبح لاہور جانے کی ہدایت فرمائی۔اگلے دن لاہور جانے کے لئے تیاری کر کے میں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ ان دنوں صدر صدر انجمن احمد یہ تھے۔میں نے عرض کیا کہ ریڈیو پروگرام کے سلسلہ میں لاہور جا رہا ہوں تو آپ نے مجھے ہدایت فرمائی۔"آپ قوم اور ملک کی خدمت کے لئے جا رہے ہیں، اللہ کا نام لے کر اس پروگرام کو شروع کر دیں۔اللہ بہت برکتوں والا ہے وہ بہت برکت دے گا" خاکسار نے حضور کی ہدایت کے پیش نظر کام شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے خاکسار کی توقع سے کہیں بڑھ چڑھ کر برکت بخشی۔i آج اس پروگرام کو آٹھ برس کا عرصہ ہو گیا ہے مگر سکھ دنیا اسے اب تک نہیں بھولی اور برابر یاد کرتی ہے۔مشرقی پنجاب کا بچہ بچہ اس پروگرام کو سنتا رہا۔سکھ اخباروں اور رسالوں نے بھی اس پروگرام کی بہت تعریف کی۔۱۹۶۸ء میں ایک سکھ سردار تیجا سنگھ نے جالندھر کے ایک اخبار کے گرونانک نمبر میں لکھا۔آج پاکستان ریڈیو کے پنجابی دربار نام کے پروگرام کا ممکن ہے کہ کوئی سیاسی مقصد ہو مگر اس پروگرام میں و گرو صاحبان اور گوربانی سے جس پیار اور اور محبت کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جس ادب اور احترام سے گوربانی کا پاٹھ اور کیرتن کی صحیح اور واضح تشریح کی جاتی ہے اسے پوری توجہ سے سننے کے بعد ہر ایک سکھ کا دل گرو کے چرنوں سے محبت کرنے سے رک نہیں سکتا۔اس سارے پروگرام کے پیچھے قادیانی صاحبان کا بہت محبت اور اخلاص کام کر رہا ہے۔ه