حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 305 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 305

290 " ة و السلام و دیگر کتب سلسلہ کے پڑھنے اور امتحان دینے کی توفیق عطا کی۔یہ خدا تعالیٰ ہی کا فضل و کرم ہے کہ جس نے خدمت خلق کی بنیادوں پر ہمارے اخلاق کی تعمیر کر کے قومی زندگی" کی روح کو ہم میں بیدار کیا۔جس نے تبلیغ کے دروازوں کو ہم پر کھول کے اجتماعی دینی و دینوی ترقیات کی راہ کو ہمارے لئے سہل و فراخ کیا۔جس نے ہمارے اطفال کی روحانی و جسمانی نشو و نما کے عمدہ ترین دور زندگی کو منظم تربیت میں لا کر ان کے مستقبل کو سنوارا اور روشن بنایا۔جس نے ہماری معاشرتی فضاء کو آوارگی و بد اخلاقی سے پاک کیا۔جس نے ہم پر ورزش اجتماعی کے دروازے کھولے اور ان مواقع سے بچایا جب نحیف و لاغر جسم روحانی ذمہ داریوں کو بار سمجھنے لگتا ہے۔اور جب بھی ہمیں غیر معمولی جائز و ضروری اخراجات کرنے پڑے اس رزاق نے ہماری غیر معمولی مدد فرمائی اور ہمیں کسی انسان کا مقروض نہ کیا فالحمد لله على ذلك - فالحمد لله على ذلك فالحمد لله على ذلك - نبی کریم ملی اور آپ کے سب سے بڑے خادم ہمارے صحیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کے طفیل اللہ تعالی نے تو ہم پر بڑے بڑے انعام کئے مگر کیا ہم نے بھی اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی طرف توجہ کی ؟ انہیں دور کرنے کی کوشش کی؟ بے شک بہت سی مجالس نے ”خدام الاحمدیہ " کی اہمیت کو سمجھا اس کی خاطر قربانیاں کیں۔اس کی ذمہ داریوں کو استقلال سے نباہا بے شک بہت سے خدام نے اپنے کو اسلام کا ستون یقین کیا، اسلامی تعلیم کے حامل بنے احمدیت کی فوج کا ایک سپاہی بنایا اور مسیح موعود علیہ السلام کے "روحانی حربہ" کا پورا پورا حق ادا کیا فجزاهم الله احسن الجزاء۔مگر بہت سے خدام اور بہت سی مجالس ایسی بھی تو ہیں جو جاگنے سے پہلے سو گئیں اور جنہوں نے آب زندگی کے پیالہ کو ہاتھ میں تو پکڑا مگر اپنے