حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 292 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 292

277 صوبہ سندھ ، بلوچستان اور اضلاع منٹگمری اور جھنگ کی جماعتوں کو خط لکھ دیئے گئے کہ وہ بھی اپنے نمائندے بھجوائیں۔وو اس شوری میں فرقان بٹالین کے بارہ میں یہ بھی منظور ہوا کہ ہر مجلس اپنے خدام کا ساڑھے بارہ فیصد حصہ ہر سہ ماہی پر بھجوائے۔یہ خدام کم از کم تین ماہ کی تربیت کے لئے آئیں گے۔تمام مجالس پندرہ دن کے اندر اندر احزاب کی فہرستیں بھجوائیں۔عرصہ تربیت میں زیر تربیت خدام وقار عمل سے متثنی ہوں گے۔" نے ۱۳ جون ۱۹۴۸ء کی شوریٰ میں رضاکار بھجوانے کے وعدوں پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ذاتی طور پر پورے ملک بالخصوص پنجاب کا دورہ کر کے گھر گھر جا کر رضاکار اکٹھے کرنے کا کام کیا۔ان کے والدین اور بزرگ رشتہ داروں کو تحریکات فرمائیں اور سے بہت جلد فرقان بٹالین قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔فرقان بٹالین جون ۱۹۴۸ء - جون ۱۹۵۰ء تک قائم رہی۔فیلڈ میں کرنل سردار محمد حیات قیصرانی صاحب کے بعد کمانڈر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب تھے اور پیچھے ہیڈ کوارٹر پر آپ تھے۔آپ عالم کباب" اور "فاتح الدین" کے نام سے اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کلید" کے نام سے پکارے جاتے تھے۔بٹالین کا پہلا کیمپ سرائے عالمگیر کے قریب سوہن نامی گاؤں میں لگایا گیا۔بٹالین کی ٹرینگ اور اسلحہ بندی کے لئے صرف ایک ماہ کا عرصہ دیا گیا۔رضا کاروں کو ہتھیاروں کا استعمال ، میدان جنگ کی سوجھ بوجھ اور پڑولنگ وغیرہ کی تربیت دی گئی۔فرقان بٹالین نے میدان جنگ میں بڑی ہمت، ڈسپلن اور بہادری کا ثبوت دیا۔و ۲۷ فروری ۱۹۴۹ء کو حضرت مصلح موعود جن کا فوجی اصطلاح میں ”امین الملک" نام رکھا گیا تھا فرقان بٹالین کے مجاہدوں کا جائزہ لینے بنفس نفیس محاذ کشمیر پر تشریف لے گئے جس سے نوجوانوں میں نیا ولولہ پیدا ہو گیا اور ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے۔مورخ احمدیت مولانا دوست محمد صاحب شاہد تاریخ احمدیت جلد ششم میں لکھتے ہیں:۔یہاں صرف ایک چھوٹا سا واقعہ بتایا جاتا ہے جس سے جوانوں کی