حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 285 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 285

270 دیا۔یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ دو ماہ تک جاری رہا۔قادیان سے واقف اصحاب اس کی صفائی اور نفاست تعمیر سے کماحقہ آگاہ ہوں گے لیکن پناہ گزینوں کی کثرت سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے میدان حشر ہے۔غلیل، تیر کمان اور فاسفورس کے گولے چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر ضلع شیخوپورہ بیان کرتے ہیں:۔پارٹیشن سے پہلے مجموعی طور پر حفاظت وغیرہ کا انتظام آپ کے سپرد تھا۔آپ نے اس وقت تین چیزیں بنائیں اور بنانے اور تیار رکھنے کی تحریک فرمائی:۔(۱) غلیل (۲) تیر کمان (۳) فاسفورس کے گولے یہ گولے چلاتے تھے تو پھٹ کر آگ لگا دیتے تھے۔" کالج میگزین یا حفاظت کے لئے میگازین حفاظت مرکز کے سلسلہ میں ۱۹۴۶ء کا ایک واقعہ محترم راجہ غالب احمد صاحب بیان رتے ہیں کہ وہ اس وقت تعلیم الاسلام کالج قادیان کے طالب علم تھے۔انہوں نے ایک پروفیسر صاحب سے شکایت کی کہ کالج کا کوئی میگزین نہیں شائع ہوتا۔حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل کالج کو جب پتہ چلا تو راجہ غالب احمد صاحب کو بلا کر پوچھا کہ میگزین یا میگازین اور مسکرا کر فرمانے لگے کہ وقت کے مطابق ہی ہونا چاہئے۔اسی روز حفاظت مرکز کے سلسلہ میں کچھ سامان ایک بیٹی میں بند کر کے راجہ غالب احمد صاحب کے گھر ان کے کمرے میں چھوڑ آئے اور چابی ان کے والد صاحب کو دے آئے کہ راجہ غالب احمد صاحب کو دے دیں تا کہ وہ خود ہی کھولیں آپ تالہ نہ کھولیں۔چنانچہ ان کے والد صاحب نے ایسا ہی کیا۔اگلے روز کالج میں راجہ غالب احمد صاحب کو فرمایا۔مل گیا تمہارا میگازین؟ اب اس کی حفاظت کرو۔اس واقعہ سے جہاں آپ کی طبیعت میں مزاح کے پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے وہاں یہ