حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 277
262 تمام دلیری اور بڑی ہمت سے کام کیا۔جماعت کے افراد کو اور حقیقتاً علاقہ کے مسلمانوں کو بڑی حد تک دشمنوں کے پیم حملوں سے محفوظ رکھا اور جانی نقصان برائے نام ہوا۔ایک وقت میں ستر ستر ہزار لوگوں کے کھانے اور رہائش کا انتظام کیا اور ان کو حفاظت سے پاکستان پہنچایا۔ان دنوں کے اخبارات میں کئی مرتبہ جماعت کی اس قربانی اور دلیرانہ دفاع کا ذکر ہوا اور جماعت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔یہ حضرت بھائی جان کی فیلڈ میں قیادت اور ہمت اور محنت کا ثمرہ تھا۔۶۔۱۹۴۷ء میں حفاظت مرکز کے لئے آپ نے جو عظیم الشان خدمات سرانجام دیں ان کی تفصیل بہت لمبی ہے صرف ایک واقعہ آپ کے اپنے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے جو آپ کے بہترین کردار کی عکاسی کرتا ہے فرمایا:۔” میری ان دنوں ذمہ داری تھی، حفاظت مرکز کا کام حضرت مصلح موعود من الالی نے میرے سپرد کیا ہوا تھا۔اس کام کی انجام دہی کے دوران ایک دن مجھے اطلاع ملی کہ سکھ اور ہندو جتے آئے ہیں اور انہوں نے مسجد اقصیٰ قادیان کے مغرب میں واقعہ ایک محلہ کو گھیرے میں لے لیا ہے، جس میں زیادہ تر ایسے گھرانے آباد تھے جو احمدی نہیں تھے اور باوردی مسلح ہندو سکھ پولیس جتھوں کے ساتھ ہے اور ناکہ بندی ایسی کر رکھی ہے کہ ایک شخص بھی باہر نہیں جا سکتا اور گھیرا ڈالنے کے بعد اب اندر داخل ہو رہے ہیں۔مجھے بڑی فکر پیدا ہوئی۔اس لئے نہیں کہ وہ جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں کیونکہ جماعت ے تو ان کا کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ اس لئے تشویش پیدا ہوئی کہ وہ تمام لوگ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی میریم کی طرف خود کو منسوب کرنے والے تھے اور جو شخص خود کو آنحضرت میم کی طرف منسوب کرے اس سے ہزار اختلاف کے باوجود کوئی شخص جو خود کو حضرت مصطفی مولی کی طرف منسوب کرنے والا ہے ان کو بے سہارا نہیں