حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 276 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 276

261 ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے" اس لئے گھبرانے کی وجہ نہیں۔یہ زندگی دو روزہ ہے۔کبھی خاوند بیوی سے بچھڑتا ہے، کبھی بیوی خاوند سے۔جو اس دنیا میں رہ جائیں ان کا خدا تعالیٰ بھی حافظ و ناصر اور وکیل ہوتا ہے جو اپنے فرائض کو ادا کرتے ہوئے اپنے خدا سے ملتا ہے، خدا اس کے عزیزوں کو کبھی ضائع نہیں کر سکتا۔باقی ابتلاء تو آتے ہی رہتے ہیں۔ابتلاؤں میں ثابت قدم رہے کہ ابتلاء ہی اصطفا تک پہنچاتا ہے۔۔۔۔سب کو سلام اور دعا۔» ۱۴ اسی طرح ایک اور خط میں آپ نے لکھا۔ہمیشہ تمہارا ناصر السلام علیکم و رحمتہ اللہ "خدا تعالیٰ ہمیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔وقتی ابتلا ء ہیں۔وقت گزر جائے گا مگر یہ حالات جماعت کی تاریخ میں تا قیامت یاد رہیں گے۔میری طبیعت پر ذرہ بھر بوجھ نہیں ہے۔لاہور کی فکر ضرور رہتی ہے۔حضور کی کمزوری صحت ضرور دکھ میں رکھتی ہے۔خدا کی امان میں تم سب اور ہمارے بزرگ۔ظلم اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔خدا کی مدد بھی قریب ہے۔بالکل پریشان نہ ہوتا۔» ۵ل تمہارا ناصر" چنانچہ آپ نے نہایت ہمت کے ساتھ قادیان اور اردگرد کے علاقہ کے مسلمانوں کو قادیان میں پناہ دی اور دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھا۔ان کے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھا۔خطرات سے ان کو بچالیا اور ایک موقع پر اپنی بیوی اور جملہ قریبی رشتہ دار عورتوں کے نہایت قیمتی کپڑے پہننے کے لئے انہیں مہیا فرمائے اور انہیں حفاظت کے ساتھ پاکستان پہنچایا۔چنانچہ آپ کے ہم عصر اور چچا زاد بھائی صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں۔” دوسرا موقعہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے دوران تھا۔ان دنوں میں اس کام کے انچارج حضرت بھائی جان تھے اور بڑی جانفشانی، بڑی