حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 266
251 خدمات کو احاطہ تحریر میں لانا تو نا ممکن ہے البتہ ان میں سے بعض ایسی خدمات ہیں جنہیں シ کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ان میں سے ۱۹۴۴ء کی دہلی میں حضرت مصلح موعود کے جلسہ پر حفاظت کی ڈیوٹی ، تبلیغی دورے ، الیکشن کے دوران ہنگامی ڈیوٹی ، پنجاب باؤنڈری کمیشن کے لئے فراہمی معلومات، تقسیم ہندوستان کے وقت حفاظت مرکز کی بھاری ذمہ داری ، ہجرت پاکستان کے بعد خدام الاحمدیہ کی سرگرمیوں کا از سر نو احیاء، تحریک آزادی کشمیر کی عظیم جدوجہد کے لئے فرقان فورس کی تشکیل اور عظیم الشان خدمات خاص طور پر قابل ذکر ہیں جنہیں نہایت اختصار کے ساتھ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔جلسہ دہلی ۱۹۴۴ء تقسیم ملک سے پہلے ۱۹۴۴ء میں جب اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بیانیہ کو انکشاف فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی الہامی پیشگوئیوں میں جس فرزند دلبند گرامی ارجمند مصلح موعود کا ذکر ہے وہ آپ ہی ہیں تو آپ نے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں اس پیشگوئی کے متعلق جلسے کئے۔دہلی جو برصغیر کی مرکزی حکومت کا دارالسلطنت تھا۔اس میں بھی پیشگوئی مصلح موعود کے سلسلہ میں ایک عظیم الشان تاریخی جلسہ ہوا اس جلسہ پر مخالفین نے حملہ کر دیا۔اس موقع پر آپ بطور صدر مجلس خدام الاحمدیہ حفاظت کی ڈیوٹی پر متعین تھے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔" حضرت مصلح موعود کا جو جلسہ مصلح موعود ۱۹۴۴ء میں دہلی میں ہوا تھا اس پر چالیس ہزار آدمیوں نے حملہ کیا تھا اور میں تھا اس وقت خدام الاحمدیہ کا صدر میں کچھ رضاکار لے کر حفاظت پر مامور تھا۔میں نے ان کو ہدایت کی کہ کسی سے لڑنا نہیں۔ہمیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ کسی کو کچھ کہیں۔لیکن ان کو اتنا قریب بھی نہ آنے دینا کہ اگر پتھر پھینکیں تو ہمارے پنڈال میں آکر گریں، اس سے ابتری پھیلے گی چنانچہ پہرے کھڑے ہو گئے اور ایک وقت میں حضرت مصلح موعود کو خیال آیا کہ بہت زیادہ جو ان باہر نہ چلے جائیں تو آپ نے کہا کہ سو سے