حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 265 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 265

250 ه۔بانس لگاتے تھے۔بے چارے خدام کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے تھے۔پھر ایک دو سال کے تجربہ کے بعد یہ پتہ لگا کہ اتنی کوفت اور تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔بس ایک کلہ بنا لیا دو چار ضر ہیں لگائیں بانس کے لئے سوراخ بن گیا۔اس کو نکالا اور آگے چلے گئے۔اس طرح جس کام پر ہفتے لگے تھے وہ دو گھنٹوں میں مکمل ہو گیا۔۵۔ابتداء میں خدام الاحمدیہ کے پاس سامان نہیں ہو تا تھا۔ہم محلے میں مختلف دوستوں سے کرالیں ، ٹوکریاں وغیرہ جمع کرتے اور ان پر نشان لگا لیتے اور وقار عمل کے بعد پھر انہیں واپس پہنچا دیتے تھے۔اس لئے و قار عمل کے بعد کئی گھنٹے تک مجھے وہاں ٹھہرنا پڑتا تھا تا کہ کوئی چیز ضائع نہ ہو۔اس سے عزت اور اعتماد قائم ہوتا ہے۔اگر کوئی چیز ضائع ہو جاتی یا ٹوٹ جاتی تو ہم اس کی قیمت ادا کر دیتے تھے۔پھر آہستہ آہستہ خدا تعالٰی نے یہ توفیق دی کہ کئی سو کر الیں اور کئی سو ٹوکریاں جو وقار عمل کے لئے ضروری تھیں خدام الاحمدیہ نے خود خرید لیں۔۶۔صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کی ایک لمبے عرصے تک قیادت کرتے رہے۔آپ کی قیادت کے دو ادوار ہیں اول ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۹ء یعنی تمیں سال سے چالیس سال کی عمر تک آپ خدام الاحمدیہ کے صدر رہے اور اصولاً چالیس سال کی عمر تک پہنچ کر آپ کو مجلس انصار اللہ میں چلا جانا چاہئے تھا لیکن بعض مصالح کی بناء پر ۱۹۴۹ء کے اجتماع پر خلیفہ وقت حضرت مصلح موعود بھی اللہ نے خدام الاحمدیہ کی صدارت کی ذمہ داری کا بوجھ بھی خود اٹھا لیا اور پانچ سال تک آپ کو اپنے ساتھ نائب صدر اول خدام الاحمدیہ کے طور پر رکھا جس کے بعد ۱۹۵۴ء میں آپ کو مجلس انصار اللہ کا صدر بنا دیا۔اس طرح ۱۹۴۹ء سے ۱۹۵۴ء تک آپ کی خدام الاحمدیہ کی قیادت کا دوسرا دور ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر اور نائب صدر کی حیثیت سے آپ کو بے شمار خدمات کی توفیق ملی جج کی تفصیل بہت وسیع ہے اور پندرہ سالوں پر پھیلی ہوئی ہے ان تمام