حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 203
188 حالات سے گزر رہی تھی۔۱۹۵۳ء کے فسادات ابھی ختم ہی ہوئے تھے۔ہوسٹل اور کالج کے لئے بہت محدود بجٹ منظور ہوا تھا جس کو ٹھی میں آج کل صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب تشریف رکھتے ہیں ہیں حضور کی رہائش تھی۔نہ بجلی تھی نہ پانی۔گرمیوں کے دن تھے صبح جاگیں تو جوتا پہننے سے پہلے سونٹے سے اسے ہلاتے تھے کہ کوئی بچھو نہ گھس آیا ہو۔عاجز کو تو علم نہیں کہ حضور کس وقت سوتے تھے۔علی الصبح تہجد کے وقت اٹھتے کو ٹھی کی بطخیں ایڑیوں پر چونچیں مار مار کر فجر کی نماز کے لئے بیدار کرتیں۔فجر کی نماز کے بعد حضور نہایت شیریں آواز میں ایک ربودگی کے عالم میں تلاوت فرماتے۔لال دین صاحب بھی ساتھ تھے وہ بھی نہایت اچھی آواز میں تلاوت کرتے۔ایک سماں بندھ جاتا۔ناشتہ حضور کالج کیمپس میں جاکر کرتے یعنی صرف چائے کی ایک آدھ پیالی، کھانا لنگر سے آتا۔عاجز تو کچھ عرصے کے بعد برک گیا اور Hotel of Monde یعنی مہند کے تنور سے کھانا کھانا شروع کر دیا۔حضور سارا دن چلچلاتی دھوپ میں مزدوروں کے درمیان کھڑے ہو کر کام کی نگرانی فرماتے۔دور دور تک کوئی درخت نہ تھا جس کے سائے میں ستایا جا سکتا۔وقفہ کے وقت نماز ظہر ہوتی اور کھانا پھر حسابات وغیرہ ملاحظہ فرماتے۔رقم ختم ہو جاتی اور ٹھیکیدار اور مزدور مطالبہ کرتے تو عطایا کے لئے مختلف دوستوں کو بھیجتے۔۔۔کبھی خود تشریف لے جاتے۔عاجز کو بھی بھیجتے۔عاجز اکثر ہمراہ ہو تا جہاں تک عاجز کا ہے کبھی ایسا موقع پیش نہیں آیا کہ عطیہ وقار اور تکریم کے ساتھ نہ ملا و۔۔۔۔ان دنوں آندھیاں بہت آیا کرتی تھیں ایک دن شام کو آندھی آئی اور پہاڑی کنکر اڑنے لگے چہرے پر یوں لگتے تھے جیسے گولی لگتی ہے ایسے موقعوں پر چہرے کو چادر یا تولئے سے ڈھانپ لیا جاتا تھا۔مغرب کی نماز پڑھ کر کالج سے روانہ ہوئے تو ایک گڑھے میں جا گرے جو