حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 132 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 132

117 تدریسی خدمات ، خلافت ثالثہ کے عظیم الشان منصب پر فائز ہونے سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کی جماعتی خدمات ستائیس سال کے لمبے عرصے پر پھیلی ہوئی ہیں جن کا آغاز ۱۹۳۸ء کے آخر سے ہوتا ہے جب آپ آکسفورڈ سے اپنی تعلیم مکمل کر کے وطن قادیان واپس تشریف لائے۔اس سے تھوڑا ہی عرصہ بعد آپ کے عظیم والد حضرت خلیفة المسیح الثانی میں ان کی خلافت پر پچیس سال مکمل ہونے پر جماعت نے اللہ تعالیٰ کا شکرانہ ادا کرنے کے لئے سلور جوبلی منائی۔اس طرح آپ کی عملی زندگی کا آغاز خلافت ثانیہ کی سلور جوبلی سے ہوا اور بیک وقت آپ کو مختلف نوع کی خدمات کی توفیق ملتی رہی جن میں بلحاظ کمیت و کیفیت اضافہ ہوتا رہا۔حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی " کی خلافت کی سلور جوبلی سے لے کر وفات تک کے عرصہ میں جو چو تھائی صدی سے کچھ زائد عرصہ پر محیط ہے آپ سید نا حضرت مصلح موعود کا مضبوط بازو بن کر عظیم الشان خدمات دین و ملت کی توفیق پاتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص کے تحت آپ قدرت ثانیہ کے مظہر ثالث کے طور پر ظاہر ہوئے اور ان تمام بشارتوں کے وارث بنے جو الہی نوشتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام الصلوۃ و السلام کی خلافت کے ساتھ وابستہ ہیں۔" اس عرصہ میں بنیادی طور پر تو آپ تعلیم و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے جہاں آپ سالها سال تک پہلے جامعہ احمدیہ قادیان اور پھر تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل کے طور پر غیر معمولی خدمات سرانجام دیتے رہے ۱۹۳۸ء سے ۱۹۴۴ء تک آپ جامعہ میں رہے اور ۱۹۴۴ء میں کالج کے اجراء پر آپ کی خدمات کو خلیفہ وقت نے کالج کی طرف منتقل کرنا پسند فرمایا۔آگے کالج کے بھی تین ادوار میں سے آپ کو گزرنا پڑا۔۱۹۴۴ء